سعودی عرب ریاض کے ہوائی اڈہ پر حملہ۔ متعدد زخمی

نئی دہلی: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک بار پھر حملہ ہوا ہے جس میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے چند روز قبل اس ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کے دعوے کے بعد پیش آیا ہے۔
دو بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی اطلاعات کے مطابق ہفتے کے روز ایک زوردار دھماکے کی آواز سنائی دینے کے بعد ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو خالی کرا لیا گیا۔خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا کہ ایک درجن سے زیادہ ایمبولینسیں تیزی سے ہوائی اڈے کی طرف جاتی دیکھی گئیں۔
سعودی حکام نے تاحال اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے جبکہ ہوائی اڈے کی انتظامیہ نے مسافروں کو ہدایت دی ہے کہ وہاں جانے سے پہلے اپنی متعلقہ ایئرلائن سے رابطہ کرکے پرواز کی صورتحال معلوم کر لیں۔امریکی سفارت خانے نے کہا کہ اسے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں کی اطلاعات ہیں۔
سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہوائی اڈے اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں جانے سے گریز کریں۔یہ واقعہ اس اعلان کے ایک دن بعد پیش آیا ہے جس میں حکام نے بتایا تھا کہ اس سے ایک روز قبل ہوائی اڈے پر حوثیوں کے دو حملوں میں ایک پائلٹ سمیت تین سعودی شہری ہلاک ہوئے تھے۔
حوثیوں کے حملوں میں 6 اور 7 اکتوبر کو سعودی عرب کے دو ہوائی اڈوں پر مزید تین افراد بھی ہلاک ہوئے تھے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کو ایک مقامی اسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ ہفتے کے روز ہونے والے حملے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک عینی شاہد جس نے بتایا کہ وہ
ملکی پروازوں کے ٹرمینل کے گیٹ نمبر 401 پر موجود تھا، نے کہا”میں نے گیٹ 401 پر حملے کا اثر دیکھا اور اپنی آنکھوں کے سامنے زخمی افراد کو دیکھا۔ ہر طرف لوگ بھاگ رہے تھے۔“اگرچہ حکام کی جانب سے تاحال حملے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے
تاہم سعودی عرب میں موجود مغربی ممالک کے سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو ہوائی اڈے سے دور رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔



