ٹرمپ کی رہائش گاہ کے قریب قیامت خیز طیارہ حادثہ – 9 افراد ہلاک، دھماکے سے علاقے میں سنسنی

امریکہ میں ایک بھیانک طیارہ حادثہ پیش آیا، جہاں جنوبی فلوریڈا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ کے قریب ایک پرائیویٹ جیٹ طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔ اس حادثے میں طیارے میں سوار 9 افراد ہلاک ہوگئے۔ مقامی وقت کے مطابق اتوار کی دوپہر پیش آئے اس حادثے کے بعد بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔ فائر بریگیڈ اور ہنگامی امدادی ٹیموں نے جائے حادثہ پر پہنچ کر راحت کاری کے اقدامات کئے۔ حادثے کے پیش نظر اطراف کی سڑکوں کو بند کردیا گیا۔
ٹیکساس سے بہاماس جا رہا تھا طیارہ
فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کے مطابق، لیر جیٹ 60 طیارہ ٹیکساس کے آسٹن برگسٹروم انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے پرواز کرتے ہوئے بہاماس جانے والا تھا۔ اس دوران دوپہر 12:50 بجے فلوریڈا کے کرسٹ ہیون علاقے میں زمین سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا۔ یہ مقام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ مار اے لاگو سے تقریباً 9 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔
حادثے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہیں۔ ان ویڈیوز میں طیارے کو آسمان سے تیزی کے ساتھ نیچے آتے اور سڑک کے قریب گرنے کے فوراً بعد زوردار دھماکہ ہوتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ جائے حادثہ سے گھنے سیاہ دھوئیں کے بادل آسمان کی جانب بلند ہوگئے۔
فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس نے حادثے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ طیارے کے گرنے کے مناظر سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی میزائل کی طرح نیچے آیا ہو۔ زوردار دھماکے کے نتیجے میں طیارے کے ملبے کے ٹکڑے دور دور تک پھیل گئے۔
600 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، حادثے کے مقام کے قریب واقع ٹریلر پارک کمیونٹی سے تقریباً 600 افراد کو حکام نے محفوظ مقامات پر منتقل کردیا۔ حادثے کے نتیجے میں مقامی بنیادی سہولتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ بالخصوص پانی کی سربراہی کرنے والی پائپ لائنیں متاثر ہوئی ہیں۔ قریبی مکانات کو بھی نقصان پہنچا یا نہیں، اس بارے میں فوری طور پر کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔
امریکی وزیر ٹرانسپورٹیشن شان ڈفی نے بتایا کہ حادثے کی تحقیقات کے لئے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کی ٹیم روانہ کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (NTSB) کی تحقیقات میں بھی تعاون کیا جائے گا۔
آسٹن ایئرپورٹ کے ترجمان جِم رینالڈز نے حادثے کا شکار طیارے کا رجسٹریشن نمبر N722BD ہونے کی تصدیق کی۔ تاہم، طیارے میں سوار افراد کی شناخت اور حادثے کی اصل وجوہات کا ابھی تک انکشاف نہیں کیا گیا ہے۔



