امریکہ-ایران امن معاہدے کی جانب اہم پیش رفت – مفاہمتی یادداشت پر دونوں ممالک نے کئے ڈیجیٹل دستخط

امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امن معاہدے کے فریم ورک (ایم او یو) پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دستخط کر دیے ہیں۔ یہ دستخط ڈیجیٹل انداز میں انجام پائے، جبکہ اس سلسلے میں باضابطہ تقریب جمعہ کو جنیوا میں منعقد ہوگی۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران نے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ امن معاہدے کے تحت امریکہ ایران کو 300 ملین ڈالر فراہم کرے گا، تاہم ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ڈیموکریٹس جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں۔ یہ بات انہوں نے جی-7 سربراہ اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی دستخطی تقریب میں امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے۔ جے ڈی وینس نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ معاہدے کی مکمل تفصیلات رواں ہفتے کے اختتام تک جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
جے ڈی وینس کے مطابق اس معاہدے کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے امن معاہدے کے لیے مسلسل کوششیں کیں، جن کے نتیجے میں مثبت پیش رفت ممکن ہوئی۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ کئی ماہ پر محیط مذاکرات اور مسلسل سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس مفاہمتی معاہدے میں لبنان بھی ایک اہم فریق کے طور پر شامل ہوگا۔



