چیف جسٹس سوریا کانت میڈیا پر برہم، کہا: دہلی احتجاج کی کوئی عرضی دائر ہی نہیں ہوئی تھی

نئی دہلی: ‘چلو پارلیمنٹ’ احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کے خلاف دائر کی گئی مبینہ ہنگامی عرضی پر سپریم کورٹ نے سماعت سے انکار کیا ہے، ان خبروں کو چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریا کانت نے مکمل طور پر غلط قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دنوں سے میڈیا غیر ذمہ دارانہ انداز میں خبریں نشر کر رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں کوئی باقاعدہ عرضی ہی دائر نہیں کی گئی تھی۔
جمعہ کو سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے کہا کہ صبح 10 بجے تک احتجاج سے متعلق ایک بھی عرضی عدالت میں داخل نہیں ہوئی تھی۔ صرف ایک وکیل نے زبانی طور پر فوری سماعت کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ محض زبانی درخواست کو عرضی کیسے تصور کیا جا سکتا ہے؟
واضح رہے کہ 20 جولائی کو ‘چلو پارلیمنٹ’ احتجاج کے دوران کشیدگی کے بعد وکیل نریندر مشرا نے سپریم کورٹ سے فوری سماعت کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے پاس پولیس کارروائی کی ویڈیو موجود ہے اور زیادہ تر متاثرین طلبہ ہیں۔ بعد ازاں میڈیا میں یہ خبریں آئیں کہ سپریم کورٹ نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کا وقت ضائع نہ کیا جائے، تاہم چیف جسٹس نے ان خبروں کی تردید کر دی۔
دوسری جانب سپریم کورٹ نے عدالتی کارروائی کی آڈیو اور ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے پر عبوری پابندی عائد کر دی ہے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ اگر کوئی شخص ایسی ریکارڈنگ شائع کرنا چاہے تو پہلے سپریم کورٹ یا متعلقہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل سے پیشگی اجازت حاصل کرے۔
سینئر وکیل وکاس سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی کارروائیوں کی ویڈیوز اور آڈیوز کا سوشل میڈیا پر غلط استعمال ہو رہا ہے، جس سے سولیسیٹر جنرل تشار مہتا نے بھی اتفاق کیا۔ عدالت نے اس معاملے پر مرکزی حکومت سے تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کیے اور عبوری طور پر پابندی نافذ کر دی۔
ادھر احتجاجیوں پر پولیس کے مبینہ طاقت کے استعمال کے خلاف دائر باقاعدہ عرضیوں کو سپریم کورٹ نے سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔ سینئر وکیل گوپال شنکر نارائنن نے جمعہ کو یہ معاملہ چیف جسٹس جسٹس سوریا کانت کی بنچ کے سامنے اٹھایا، جس کے بعد عدالت نے عرضیوں پر پیر کے روز سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔



