ٹرمپ کا بڑا داؤ — جنگ بندی میں توسیع، مگر ایران پر دباؤ برقرار!

ایران کے ساتھ دوسرے مرحلے کے مذاکرات پر غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کے دوران امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم فیصلہ لیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ جنگ بندی معاہدہ، جو اس ماہ 8 تاریخ کو دو ہفتوں کیلئے طے پایا تھا، اس کی مدت ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل اسے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر کیا گیا۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کی جانب سے کسی باضابطہ تجویز آنے تک اس پر حملے نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی جہازوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں برقرار رہیں گی۔
امریکی صدر نے الزام عائد کیا کہ ایران کے اندرونی اختلافات ہی مذاکرات میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے جنگ بندی میں توسیع پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو کھول دیتا ہے تو اسے روزانہ تقریباً 500 ملین ڈالر کی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے، بصورت دیگر اسے بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نے اپنی ساکھ بچانے کیلئے آبنائے ہرمز کی بندش کو امریکی اقدامات سے جوڑ کر پیش کیا ہے۔
ساتھ ہی ٹرمپ نے سخت موقف اپناتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر پابندیاں ہٹا دی گئیں تو ایران معاہدے کیلئے تیار نہیں ہوگا، بلکہ مزید دباؤ اور سخت اقدامات کے ذریعے ہی اسے مذاکرات کی میز پر لایا جا سکتا ہے۔



