حجاب: لباس نہیں، آزادی کا سوال

تحریر: سید سرفراز احمد
حجاب ایک بار پھر عدالت کے کٹہرے میں ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے نے حجاب کے بارے میں ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے کہ کسی تعلیمی ادارے میں لباس کا ضابطہ کہاں تک قابلِ قبول ہے اور مذہبی آزادی کی آئینی ضمانت کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ یہ معاملہ صرف ایک طالبہ کے لباس کا نہیں، بلکہ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور کثیر تہذیبی ملک میں فرد کی مذہبی شناخت، آئینی حقوق اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کے درمیان توازن کا سوال بھی ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے پریاگ راج کے ایک نجی CBSE اسکول سے متعلق مقدمے میں طالبہ کی حجاب کے ساتھ اسکول یونیفارم پہننے کی اجازت کی درخواست مسترد کردی۔ عدالت کے سامنے یہ مؤقف بھی رکھا گیا کہ حجاب اسلام میں لازمی مذہبی عمل ہے، لیکن عدالت نے اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے پیش کیے گئے مواد کو کافی نہیں سمجھا۔ عدالت نے اسکول کے مقررہ یونیفارم ضابطے کو برقرار رکھا۔ یہ فیصلہ قانونی نقطۂ نظر سے اپنی جگہ قابلِ بحث ہے، لیکن اس فیصلے کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا کسی مذہبی عمل کی آئینی حفاظت صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب عدالت اسے لازمی مذہبی عمل قرار دے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں مذہبی آزادی اور عدالتی تشریح کے درمیان پیچیدہ سوال پیدا ہوتا ہے۔
ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 25 ہر شخص کو اپنے مذہب کو ماننے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کی آزادی دیتا ہے، البتہ یہ آزادی عوامی نظم، اخلاق اور صحت کے تابع ہے۔ اسی طرح آئین کا آرٹیکل 14 قانون کے سامنے مساوات اور آرٹیکل 21 وقار اور شخصی آزادی کے تحفظ سے متعلق ہے۔ لہٰذا حجاب کے مسئلے کو صرف مذہبی رسم کے سوال تک محدود کردینا شاید اس بحث کے تمام آئینی پہلوؤں کا احاطہ نہ کرے۔ حجاب کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان یہ موقف پایا جاتا ہے کہ بالغ مسلم عورت کے لیے پردہ اور حجاب اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔ فقہی اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں، مگر یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ دنیا بھر میں لاکھوں مسلم خواتین حجاب کو اپنے مذہبی تشخص اور دینی وابستگی کا حصہ سمجھتی ہیں۔ کسی خاتون کے لیے حجاب صرف کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا؛ وہ اسے عبادت، حیا، شناخت اور اپنے مذہبی شعور کا اظہار سمجھ سکتی ہے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی اہم ہے۔ اسکول اور تعلیمی ادارے نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے یونیفارم مقرر کرسکتے ہیں۔ یونیفارم کا مقصد طلبہ کے درمیان امتیاز کم کرنا، ادارے کی شناخت قائم کرنا اور تعلیمی ماحول کو منظم رکھنا ہوسکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یونیفارم کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کسی طالب علم کو اپنی مذہبی شناخت کے اظہار سے مکمل طور پر روکنا ضروری ہے؟ اگر یونیفارم کے بنیادی رنگ، انداز اور شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے حجاب کی اجازت ممکن ہو تو کیا ایسا راستہ نہیں نکالا جاسکتا جس میں ادارے کا نظم بھی برقرار رہے اور طالبہ کے مذہبی احساسات بھی مجروح نہ ہوں؟ یہ بحث صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ہندوستان کی خوبصورتی ہی اس کے مذہبی اور ثقافتی تنوع میں ہے۔ کسی ایک مذہبی طبقے کے لباس، علامت یا مذہبی شناخت کے معاملے میں جو اصول اختیار کیا جائے، کل وہی اصول کسی دوسرے طبقے کے لیے بھی سوال بن سکتا ہے۔ اس لیے ایسے معاملات میں اکثریت یا اقلیت کے چشمے سے نہیں بلکہ آئین اور شہری آزادی کے چشمے سے دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ حجاب کو تعلیم کے مقابل کھڑا نہ کیا جائے۔ مسلمان لڑکی کے سامنے انتخاب حجاب یا تعلیم کا نہیں ہونا چاہیے۔ اسے حجاب کے ساتھ اعلیٰ تعلیم، تحقیق، سائنس، طب، قانون، صحافت اور ہر جائز میدان میں آگے بڑھنے کا حق بھی حاصل ہونا چاہیے۔ حجاب اگر دینی شناخت ہے تو تعلیم اس شناخت کو قوت دینے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ ایک مخصوص مقدمے کے قانونی حقائق اور اس کے سامنے موجود دلائل کی بنیاد پر آیا ہے۔ اس فیصلے کو پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف کسی عمومی قانونی اعلان کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ اسی طرح اسے مذہبی آزادی کے تمام سوالات کا آخری جواب سمجھ لینا بھی مناسب نہیں۔ ہندوستانی عدالتی نظام میں ایسے حساس معاملات بالآخر اعلیٰ عدالتوں کی تشریح اور آئینی اصولوں کے ذریعے مزید واضح ہوسکتے ہیں۔
اصل ضرورت ٹکراؤ کی نہیں، مکالمے کی ہے۔ اسکول انتظامیہ کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ یونیفارم کا مقصد نظم ہے، مذہبی شناخت مٹانا نہیں۔ والدین اور طلبہ کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ مذہبی آزادی کے ساتھ ادارے کے جائز نظم و ضبط کا احترام ضروری ہے۔ عدالتوں کے سامنے بھی ایسے مقدمات میں مذہبی آزادی، مساوات، وقار اور ادارہ جاتی نظم تمام آئینی اقدار کو ایک ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ حجاب کے مسئلے کو اگر صرف کپڑے کا مسئلہ سمجھا جائے تو شاید اس کی گہرائی نظر نہ آئے۔ کسی کے لیے یہ معمولی لباس ہوسکتا ہے، مگر جس عورت کے لیے یہ اس کے ایمان اور شناخت کا حصہ ہے، اس کے لیے معاملہ مختلف ہے۔ ایک جمہوری معاشرے کی اصل آزمائش یہی ہے کہ وہ اکثریت کی پسند ہی نہیں، اقلیت کے حساس حقوق کی بھی حفاظت کس حد تک کرتا ہے۔
حجاب پر بحث ہمیں ایک بنیادی سوال کی طرف واپس لے جاتی ہے۔ کیا ہندوستان میں آزادی کا مطلب صرف اپنی پسند کے مطابق جینے کی آزادی ہے، یا دوسروں کو ان کی جائز مذہبی شناخت کے ساتھ جینے دینے کا نام بھی آزادی ہے؟ شاید اسی سوال کا جواب ہندوستان کی جمہوریت کے مستقبل کی سمت متعین کرے گا۔ حجاب کا مسئلہ ہندوستان میں نیا نہیں۔ آج الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کردیا ہے، لیکن اس کے پس منظر میں کرناٹک کا وہ واقعہ بھی موجود ہے جس نے 2022 میں پورے ملک کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ اس لیے الہ آباد کے فیصلے کو سمجھنے کے لیے کرناٹک کی پوری قانونی داستان کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
کرناٹک کے اڈوپی میں دسمبر 2021 میں ایک سرکاری پری یونیورسٹی کالج کی چند طالبات کو حجاب کے ساتھ کلاس میں بیٹھنے سے روکا گیا۔ طالبات نے احتجاج کیا اور معاملہ کرناٹک ہائی کورٹ پہنچا۔ بعد میں کرناٹک حکومت نے 5 فروری 2022 کو ایک سرکاری حکم جاری کیا جس میں تعلیمی اداروں میں مقررہ یونیفارم پر زور دیا گیا۔ معاملہ بالآخر کرناٹک ہائی کورٹ کی فل بینچ کے سامنے پہنچا۔ 15 مارچ 2022 کو کرناٹک ہائی کورٹ نے طالبات کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے بنیادی طور پر یہ موقف اختیار کیا کہ حجاب کو اسلام کا لازمی مذہبی عمل ثابت نہیں کیا گیا اور تعلیمی اداروں کے یونیفارم کے ضابطے کو نافذ کیا جاسکتا ہے۔ یہی وہ فیصلہ تھا جسے بعد میں سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔
لیکن یہاں ایک انتہائی اہم قانونی حقیقت سامنے آتی ہے جسے عام طور پر نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ 13 اکتوبر 2022 کو سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے اس معاملے میں منقسم فیصلہ دیا۔ جسٹس ہیمنت گپتا نے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کردیں، جبکہ جسٹس سدھانشو دھولیا نے اس کے برعکس اپیلیں منظور کرتے ہوئے کرناٹک حکومت کا حکم منسوخ کرنے اور تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی نہ لگانے کی بات کہی۔ دونوں ججوں کے مختلف موقف کے باعث معاملہ مناسب بنچ تشکیل دینے کے لیے چیف جسٹس آف انڈیا کے سامنے رکھنے کا حکم دیا گیا۔ یہ نکتہ آج کے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں انتہائی اہم ہے۔ کیونکہ سپریم کورٹ کا 2022 کا فیصلہ کوئی متفقہ اکثریتی فیصلہ نہیں تھا۔ خود حالیہ قانونی تجزیوں کے مطابق حجاب کے معاملے پر سپریم کورٹ کی طرف سے ابھی تک ایسا حتمی اور authoritative فیصلہ سامنے نہیں آیا جس نے پورے ملک کے لیے اس سوال کو قطعی طور پر طے کردیا ہو۔
یہ بھی قابل غور ہے کہ کرناٹک حکومت نے مئی 2026 میں 2022 کے متنازع حکم کو واپس لے لیا اور حجاب سمیت بعض مذہبی و روایتی علامات کو مقررہ یونیفارم کے ساتھ اجازت دینے کا نیا حکم جاری کیا۔ اس پیش رفت نے کرناٹک کے معاملے کو ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا ہے۔
اس پس منظر میں الہ آباد ہائی کورٹ کا تازہ فیصلہ مزید اہم ہوجاتا ہے۔ ایک طرف عدالت نے طالبہ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حجاب کو لازمی مذہبی عمل ثابت کرنے کے لیے مناسب مواد پیش نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف کرناٹک کا تجربہ یہ دکھاتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف لازمی مذہبی عمل کی بحث تک محدود نہیں بلکہ مذہبی آزادی، فرد کے وقار، تعلیم کے حق اور ادارہ جاتی نظم کے درمیان توازن کا بھی سوال ہے۔ کرناٹک کا تجربہ، سپریم کورٹ کا منقسم فیصلہ اور اب الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ بتاتا ہے کہ حجاب کی قانونی بحث ابھی ختم نہیں ہوئی۔ لیکن آخری سوال تو یہی اٹھتا ہے کہ ایک فرد کی مذہبی آزادی پر کیسے روک لگائی جاسکتی ہے؟



