بریانی کے برتن سے حیات اللہ نشا کے جسمانی اعضا برآمد ہونے کا معاملہ۔ ناجائز تعلقات درندگی کی وجہہ، عاشق اور اس کی بیوی نے ہی کیا قتل، تحقیقات میں چونکا دینے والا انکشاف

نئی دہلی: پولیس نے ٹرین میں موجود ایک سوٹ کیس اور بریانی پکانے کے برتن سے انسانی جسم کے اعضا ملنے کے معاملے میں میاں بیوی کو گرفتار کیا ہے۔پولیس کے مطابق چنئی سے دہلی جانے والی تمل ناڈو ایکسپریس ٹرین میں ایک سوٹ کیس کے اندر انسانی جسم کے اعضا ملنے کے بعد تحقیقات شروع کی گئیں۔
تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ چنئی کے گڈووانچیری علاقے میں ایک خاتون کو قتل کیا گیا تھا۔ اس کے کچھ اعضا سوٹ کیس میں رکھ کر ٹرین میں چھوڑ دیے گئے جبکہ دیگر اعضا ایک برتن میں ڈال کر پکائے گئے تھے۔
پولیس نے بتایا کہ مقتولہ ایک خاتون تھی جس کی شناخت 38 سالہ حیات اللہ نِشا کے طور پر ہوئی ہے۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ اس کے ساتھ رہنے والے مانک لسکر اور اس کی بیوی بھاگمتی ماجھی نے مبینہ طور پر اسے قتل کیا۔ملزمین کے فرار ہونے کے بعد پولیس نے آسام اور اوڈیشہ میں بھی تحقیقات کیں۔
اسی سلسلے میں ہفتے کے روز منی پور میں مانک اُتین لسکر اور بھاگمتی ماجھی کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس انہیں ٹرانزٹ وارنٹ کے ذریعے تامبرم لانے کی کارروائی کر رہی ہے۔مانک اُتین لسکر سے کی گئی تفتیش میں معلوم ہوا کہ یہ میاں بیوی گڈووانچیری میں رہتے تھے۔
حیات اللہ نِشا اسی کمپنی میں کام کرتی تھی جہاں مانک لسکر تامبرم میں ملازم تھا۔ دونوں کے درمیان مبینہ طور پر ناجائز تعلقات قائم ہوگئے تھے۔ بعد میں مانک نے اپنے گھر کے قریب ایک مکان کرائے پر لے کر نِشا کو وہاں رکھا۔اس دوران حیات اللہ نِشا حاملہ ہوگئی اور اس نے اپنے مبینہ محبوب سے شادی کرنے کا مطالبہ کیا۔
تاہم مانک نے اسے حمل ساقط کروانے کا مشورہ دیا۔اس معاملے کا علم مانک کی بیوی بھاگمتی ماجھی کو ہوگیا جس کے بعد میاں بیوی کے درمیان جھگڑے ہونے لگے۔ بعد ازاں مانک اور اس کی بیوی نے حیات اللہ نِشا سے بات کی۔ اس دوران ان کے درمیان جھگڑا ہوا جس کے نتیجے میں میاں بیوی نے مبینہ طور پر اسے تشدد کرکے قتل کردیا۔
قتل کے بعد ملزمین نے مقتولہ کا سر جسم سے الگ کیا اور خون کو بریانی پکانے کے ایک برتن میں جمع کیا۔ جسم کے کچھ اعضا بھی اسی برتن میں رکھے گئے جبکہ سر کو کسی اور مقام پر پھینک دیا گیا۔باقی ہڈیوں اور جسم کے کچھ حصوں کو سوٹ کیس میں رکھ کر تمل ناڈو ایکسپریس ٹرین میں چھوڑ دیا گیا۔
جب ملزمین بریانی کے برتن میں موجود اعضا کو ٹھکانے لگانے کی کوشش کر رہے تھے تو پولیس کو اس معاملے کا علم ہوگیا۔ اس کے بعد وہ اوڈیشہ فرار ہوگئے اور وہاں سے منی پور پہنچے، جہاں پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔
پولیس اب اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ مقتولہ کا سر کہاں پھینکا گیا تھا۔




