تعصب کی زنجیریں کب ٹوٹیں گی؟
سید سرفراز احمد
ہندوستان! جس ملک کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی، مساوات اور اظہارِ رائے کا حق دیتا ہے، وہاں اگر ایک مسلم آئی پی ایس افسر ڈاکٹر بشریٰ بانو جنھوں نے اپنی گفتگو میں ’’السلام علیکم‘‘، ’’ان شاء اللہ‘‘ اور ’’جزاک اللہ‘‘ کہنے پر نشانہ بنایا جارہا ہے تو یہ محض ایک عہدیدار کا معاملہ نہیں، بلکہ آئینِ ہند کی روح کو جھنجھوڑنے والا سوال ہے۔
خبر کے مطابق مغربی بنگال کی آئی پی ایس افیسر ڈاکٹر بشریٰ بانو نے ایک ایک خانگی پروگرام میں ویڈیو کے ذریعہ اپنی جدوجہد کا تذکرہ کرتے ہوئے اسلامی دعائیہ کلمات استعمال کرتی ہے۔ یعنی بات السلام علیکم سے شروع ہوکر درمیان میں ان شاءاللہ اور آخر میں دھنیاواد کے ساتھ جزاک اللہ پر گفتگو ختم کرتی ہے۔ اسی پر ایک ہندو تنظیم ہندو لیگل فنڈ نے ان کے خلاف شکایت درج کرائی، جس کے بعد انہیں عہدے سے منتقل کیے جانے کی خبر سامنے آئی۔ اگر اس منتقلی کی بنیاد واقعی ان کے مذہبی الفاظ یا مذہبی شناخت سے متعلق اعتراض ہے تو یہ نہایت تشویش ناک صورتِ حال ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کا آئین کسی سرکاری ملازم کو اپنی مذہبی شناخت کے اظہار سے محروم کرتا ہے؟ جواب ہے، محض مذہبی سلام، دعا یا عقیدے کے اظہار پر پابندی عائد کرنے کی کوئی عمومی آئینی بنیاد نہیں ہے۔ آئین کی دفعہ 14 قانون کے سامنے مساوات کی ضمانت دیتی ہے، دفعہ 15 مذہب کی بنیاد پر امتیاز سے تحفظ فراہم کرتی ہے، دفعہ 16 سرکاری ملازمتوں میں مساوی مواقع کی بات کرتی ہے، جبکہ دفعہ 25 ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل اور اس کے اظہار کی آزادی دیتی ہے، آئینی حدود کے ساتھ۔
’’السلام علیکم‘‘ کہنا کسی دوسرے مذہب کی توہین نہیں، ’’ان شاء اللہ‘‘ کہنا قومی وفاداری سے انکار نہیں اور ’’جزاک اللہ‘‘ کہنا آئین شکنی نہیں۔ یہ ایک مسلمان کی زبان، تہذیب اور عقیدے کا حصہ ہیں۔ جس کے معنی و مفہوم بھی کوئی غیر اخلاقی نہیں ہے۔ بلکہ ایک با اخلاق انسان ہی ایسے کلمات کو اپنی زبان پر لاسکتا ہے۔ ان کلمات سے نہ کسی دوسرے مذہب کی توہین ہورہی ہے نہ کسی مذہب کے افراد کے جذبات کو مجروح کیا جارہا ہے تو بشریٰ بانو کے کلمات کیسے جرم میں شمار کیئے جاسکتے ہیں؟ اگر ’’جے ہند‘‘ کہنا حب الوطنی کی علامت ہوسکتا ہے تو کسی مسلمان کا ’’السلام علیکم‘‘ کہنا غداری یا فرقہ واریت کیسے بن سکتا ہے؟ حب الوطنی کسی ایک مذہبی نعرے کی محتاج نہیں ہوتی۔ ہندوستان سے وفاداری کا معیار شہری کی دیانت، آئین سے وابستگی اور ملک کی خدمت ہے۔
آج ایک مسلم خاتون افسر کے مذہبی الفاظ پر اعتراض ہے، کل کسی استاد کی داڑھی، کسی طالب علم کی ٹوپی، کسی ملازم کے نام یا کسی شہری کی زبان کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ یہ سلسلہ اگر نہ روکا گیا تو مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں رہے گا۔ ہر مذہبی اقلیت، ہر آزاد شہری اور خود آئین کی بالادستی خطرے میں پڑ جائے گی۔
یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ سرکاری عہدہ غیر جانب داری، قانون کی پابندی اور عوام کے ساتھ یکساں سلوک کا تقاضا کرتا ہے۔ لیکن غیر جانب داری کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی آفیسر اپنی مذہبی شناخت مٹا دے۔ ریاست کا کام شہریوں کو ان کے مذہب سے محروم کرنا نہیں، بلکہ ہر مذہب کے ماننے والوں کو برابر تحفظ دینا ہے۔
شرپسند عناصر کو سمجھنا ہوگا کہ مسلمان اس ملک کے برابر کے شہری ہیں، کسی رعایت کے محتاج نہیں۔ انہوں نے آزادی کی جدوجہد، ملک کی تعمیر، تعلیم، اور انتظامیہ میں اپنا اعلیٰ کردار ادا کیا ہے۔ کسی مسلم آفیسر کو اس کے مذہبی الفاظ پر ذلیل کرنا یا اس کی پیشہ ورانہ اہلیت کو مذہبی تعصب کی کسوٹی پر پرکھنا، ہندوستان کی مشترکہ تہذیب اور جمہوری وعدے دونوں کی توہین ہے۔
حکومتِ ہند اور ریاستی حکومتوں سے مطالبہ ہے کہ مذہبی بنیاد پر ہونے والی ہر شکایت کی غیر جانب دارانہ جانچ کی جائے۔ اگر کسی آفیسر کے خلاف کارروائی ہوئی ہے تو اس کی حقیقی انتظامی وجہ عوام کے سامنے واضح کی جائے۔ کسی شہری کو محض اس کے مذہب، نام، لباس یا دعائیہ کلمات کی بنیاد پر ہراساں کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
ہندوستان کا آئین کسی اکثریت کی جاگیر نہیں۔ یہ ہر ہندوستانی کی ضمانت ہے۔ اگر آج ’’السلام علیکم‘‘ کو جرم بنانے کی کوشش پر خاموشی اختیار کی گئی تو کل آئین کے بنیادی حقوق صرف کتابوں میں باقی رہ جائیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ملک کے انصاف پسند شہری متحد ہوکر آواز کو بلند کریں۔ کہ نہ کسی مسلمان کو دوسرے درجے کا شہری بننے دیں گے، نہ کسی مذہب کو دوسرے مذہب پر فوقیت دیں گے۔ ہندوستان سب کا ہے، اور آئین سب کے لیے ہے۔
اس واقعہ کے پیشِ نظر اگر ہم دوسرے مذہب یعنی ہندو دھرم کے اعلیٰ عہدیداروں کو دیکھتے ہیں تو ہندو لیگل فنڈ تنظیم اور بنگال کی ریاستی حکومت کا متضاد و جانب دار چہرہ عیاں ہوجاتا ہے۔ سنبھل کے اس وقت کے سرکل آفیسر انوراج چودھری جس نے شوبھا یاترا میں پولیس کی وردی پہن کر اور ہاتھ میں گدا لے کر خود حصہ لیا۔ اور اپنے آپ کو کٹر ہندو ہونے کا عملی نمونہ پیش کیا۔ نہ اس وقت ہندو لیگل فنڈ اور نہ کسی دوسری ہندو تنظیم نے کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ اور نہ کسی کو یہ رویہ غلط نظر آیا۔ بلکہ یوگی کے چہیتے عہدیدار کو پولیس عہدے میں مزید ترقی عطا کی گئی۔
ایسے کئی ایک مواقع ہوتے ہیں جہاں ہم خود اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ابھی گنیش تہوار کو ہی دیکھ لیجئے ضلعی کلکٹر سے لے کر آئی پی ایس عہدیدار خود گنیش منڈپ میں پہنچ کر پوجا پاٹ کرتے ہیں۔ اور جس دن گنیش وسرجن جلوس نکالا جاتا ہے اس دن یہ اعلیٰ عہدیدار اپنی ڈیوٹی کے دوران جلوس کے آغاز سے قبل پوجا پاٹ رسم و رواج میں پوری طرح حصہ لیتے ہیں۔لیکن کبھی کسی مسلم نے اس پر کوئی سوالیہ نشان نہیں اٹھایا۔ اسی لیئے کہ انھیں اپنے مذہب پر عمل پیرا ہوتے ہوۓ سرکاری ڈیوٹی کرنے کی اجازت بھارتی دستور دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح یہ آزادی دیگر مذاہب کو بھی حاصل ہے۔
تو یہ بات بنگال کی ریاستی حکومت کو کیوں سمجھ میں نہیں آئی؟ اگر ہندو تنظیم شکایت درج کرائی بھی ہے تو سرکار دستور کے دائرے سے جواب دے کر بات کو نمٹا سکتی تھی۔ لیکن بھاجپا سرکار اگر ایسا کرتی ہے تو ان کا وہ پردہ بے نقاب ہوجاتا جس کے نام پر وہ ہندو ووٹ بٹورنے کا کام کرتی ہے۔ بشریٰ بانو کا تبادلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب ان کے مذہبی الفاظ پر شکایت اور تنازع سامنے آیا تھا۔ کیا یہ محض اتفاق ہے یا شکایت کا انتظامی فیصلے پر اثر پڑا؟ اس سوال کا جواب مغربی بنگال حکومت کو شفاف طور پر دینا چاہیے۔ کیوں کہ مغربی بنگال کی سرکار نے کوئی معقول وجہ بتاۓ بناء ہی ڈاکٹر بشریٰ بانو کے تبادلے کا حکم نامہ جاری کردیا۔ جو ملک میں بڑھ رہی تعصبیت کے واقعات کی فہرست میں مزید ایک کا اضافہ کردیتا ہے۔
لیکن اس تعصب کی زنجیروں کو آخر کب توڑا جاۓ گا؟ اور اس ملک میں بڑھ رہی تعصبیت کو ملک سے کب پاک و صاف کیا جاۓ گا؟ ایک بڑا طبقہ آج بھی غیر جانب دارانہ صحافت کو انجام دے رہا ہے۔ ملک کی ایک بڑی تعداد ظلم و نا انصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کررہی ہے۔ لیکن وہیں پر سرکاری اداروں کی حالت تشویش ناک ہے۔ اگر سرکاری ادارے اس جکڑی ہوئی زنجیروں سے نکل کر آزادنہ کردار ادا کرتے ہیں تو بہت حد تک اس ملک کو تعصبیت سے نجات مل سکتی ہے۔
یہ اچھی بات ہے کہ اس واقعہ کے بعد غیر جانب دارانہ صحافت نے اس واقعہ کو پورے آب و تاب سے اٹھایا ہے۔ جو اس وقت ہمارے ملک میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ لیکن بنگال سرکار کی اگر خاموشی نہ ٹوٹے تو یہ بات یقین میں بدل جاۓ گی بشریٰ بانو کا تبادلہ محض تعصب کی بناء پر ہی کیا گیا ہے۔ لیکن اس سے نہ ڈاکٹر بشریٰ بانو کی کوئی ساکھ متاثر ہوگی نہ ان کے حوصلے پست ہوں گے۔ بلکہ اس طرح کے گھناؤنے واقعات سے عالمی سطح پر ملک کی ساکھ ضرور متاثر ہوگی۔ جو کہ ان تعصب پسندوں کو سمجھ میں آنی چاہیئے۔ بقول نصیر الدین شاہ "سب یاد رکھا جاۓ گا”۔ یقیناً ہر روز کوئی نہ کوئی واقعہ نفرت یا تعصب کی بناء پر سامنے آہی جاتا ہے۔ اس حساب سے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ سب یاد رکھا جاۓ گا۔ بلکہ آنے والی نسلیں جب اس طرح کے نفرت اور تعصب بھرے واقعات پڑھے گی یا سنے گی تو یقیناً ان کا سر شرم سے جھک جاۓ گا۔



