طویل عرصے سے قائم اسکولوں کو شوکاز نوٹس، حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ : ایمس وکومی

طویل عرصے سے قائم اسکولوں کو شوکاز نوٹس، حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ : ایمس وکومی
*تعلیمی سال کے دوران کارروائی سے طلبہ، والدین اور اساتذہ متاثر ہوں گے : ایم ایس فاروق*
حیدرآباد (راست) آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی (AIMES) اور کانفیڈریشن آف مائنارٹی انسٹی ٹیوشنز (COMI) نے رہائشی علاقوں میں طویل عرصے سے قائم تعلیمی اداروں کو گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (GHMC) کی جانب سے جاری کردہ شوکاز نوٹسوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ دونوں تنظیموں نے کہا کہ جاری تعلیمی سال کے دوران ایسے نوٹسوں اور ممکنہ کارروائی سے طلبہ، والدین، اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ متاثر ہوسکتا ہے،
جبکہ یکم اکتوبر 2026ء سے سممیٹو اسیسمنٹس بھی شروع ہونے والے ہیں۔AIMES کے جنرل سکریٹری اور COMI کے صدر ایم ایس فاروق ایڈوکیٹ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ متعدد تعلیمی اداروں کی جانب سے انہیں نمائندگیاں موصول ہوئی ہیں، جن میں GHMC کے نوٹسوں کے حوالے سے تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی تعلیمی ادارے تین یا چار دہائیوں سے، جبکہ بعض اس سے بھی زیادہ عرصے سے، خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایسے اداروں سے جاری تعلیمی سال کے دوران اچانک اپنی عمارتیں یا ادارے منتقل کرنے کی توقع کرنا طلبہ، والدین اور عملے کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی سال اہم مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور یکم اکتوبر سے سممیٹو اسیسمنٹس شروع ہونے والے ہیں
۔ ایسے وقت میں اسکول انتظامیہ کی توجہ تدریس، امتحانات، طلبہ کی فلاح و بہبود اور تعلیمی کارکردگی پر ہونی چاہیے، نہ کہ عمارتوں کی منتقلی یا بلدیاتی کارروائی سے متعلق خدشات پر۔ایم ایس فاروق نے سوال کیا کہ اگر حیدرآباد میں قائم سینکڑوں اسکولوں کو موجودہ عمارتیں خالی کرنے یا جگہ تبدیل کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے تو ان کے لیے مناسب، قابل رسائی اور قابل استطاعت متبادل مقامات کہاں دستیاب ہوں گے؟ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد ایک گنجان شہری علاقہ ہے اور والدین عموماً اپنے بچوں کے لیے اپنے رہائشی علاقوں کے اندر یا قریب موجود اسکولوں کو ترجیح دیتے ہیں۔
مقامی سطح پر قائم اسکول طویل سفر، غیر ضروری ٹرانسپورٹ اور ٹریفک کے دباؤ کو بھی کم کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ GHMC کے شائع کردہ مواد میں بھی تعلیمی اداروں کو بلدیاتی مقاصد کے لیے غیر رہائشی استعمال کی ایک علیحدہ قسم کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، اس لیے تعلیمی اداروں سے متعلق واضح، یکساں اور مستقل ضابطہ کار کی ضرورت ہے۔ایم ایس فاروق نے GHMC کے نوٹسوں میں رہائشی جائیدادوں کے مبینہ غیر مجاز استعمال سے متعلق سپریم کورٹ کی کارروائی کے حوالے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہLoganathan v. State of Tamil Nadu & Ors., Miscellaneous Application Diary No.17103/2026 in SLP(C) Nos.8044–8045/2025,، میں ریاستی و مرکزی زیر انتظام علاقوں کے دارالحکومتوں میں رہائشی علاقوں کے غیر رہائشی استعمال کی جامع جانچ کے لیے بلدیاتی حکام کو ہدایات دی گئی تھیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ AIMES اور COMI قانون کی خلاف ورزی کے حق میں نہیں ہیں۔ اگر کسی ادارے میں حقیقی حفاظتی خلاف ورزی، غیر قانونی تعمیر یا دیگر قانونی خلاف ورزی موجود ہو تو مجاز حکام قانون کے مطابق کارروائی کرسکتے ہیں، تاہم ہر معاملے کا اس کے مخصوص حقائق اور حالات کی بنیاد پر جائزہ لیا جانا چاہیے۔ کسی عدالتی ہدایت کو ہر طویل عرصے سے قائم تعلیمی ادارے کے خلاف میکانکی کارروائی کا ذریعہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔دونوں تنظیموں نے حکومت اور متعلقہ بلدیاتی حکام سے مطالبہ کیا کہ طویل عرصے سے قائم تعلیمی اداروں کو جاری شوکاز نوٹسوں کا فوری جائزہ لیا جائے اور جاری تعلیمی سال کے دوران ایسی جبری کارروائی سے گریز کیا جائے جس سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوں۔
انہوں نے شہر کے تمام متعلقہ تعلیمی اداروں کا جامع سروے کرنے، رہائشی علاقوں میں قائم اسکولوں کے لیے واضح اور یکساں رہنما اصول وضع کرنے، جہاں قانوناً ممکن ہو خامیوں کی اصلاح کے لیے مناسب وقت دینے اور مناسب تعلیمی زون و متبادل عمارتوں کی دستیابی کا جائزہ لینے کا بھی مطالبہ کیا۔AIMES اور COMI نے شہر گیر اثرات رکھنے والے کسی بھی فیصلے سے قبل تعلیمی اداروں کے نمائندوں سے مشاورت کرنے اور طلبہ کے تعلیمی سلسلے و آئندہ امتحانات کو متاثر ہونے سے بچانے پر زور دیا۔
ایم ایس فاروق نے کہا کہ ”بلدیاتی یا زوننگ سے متعلق کسی مسئلے کی قیمت بچوں سے وصول نہیں کی جانی چاہیے۔“ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے قائم اسکول محض ایک عمارت نہیں بلکہ طلبہ، والدین، اساتذہ اور معاشرے سے وابستہ ایک تعلیمی ادارہ ہوتا ہے، اس لیے ضابطہ جاتی کارروائی میں قانونی شہری منصوبہ بندی کے ساتھ تعلیم کے تسلسل اور عوامی سہولت کے تقاضوں میں بھی توازن ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ AIMES اور COMI نے وزیر اعلیٰ تلنگانہ سے بھی مداخلت کی درخواست کی ہے
اور متعلقہ حکام سے موجودہ کارروائی کا ازسرنو جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ طویل عرصے سے قائم تعلیمی اداروں کے لیے ایک عملی، قانونی اور طلبہ دوست طریقہ کار وضع کرنے کی اپیل کی ہے۔



