دہلی میں 7 ہزار احتجاجی گرفتار 4 سابق چیف منسٹرس بھی شامل۔چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر ہنگامہ

نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر ہفتے کے روز پورا دن کناٹ پلیس میں پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے رہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے لوگوں سے جنتر منتر پہنچنے کی اپیل کی تھی۔
مظاہرین کو جنتر منتر تک پہنچنے سے روکنے کے لیے دہلی پولیس نے غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے تھے۔دہلی پولیس نے کسی بھی مظاہرین کو جنتر منتر تک پہنچنے نہیں دیا۔دہلی پولیس نے سی جے پی کے کنوینر ابھیجیت دیپکے، چار سابق وزرائے اعلیٰ اور یوٹیوبر دھروو راٹھی سمیت سات ہزار سے زائد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ لُٹینز دہلی میں 30 ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے اور کئی سطحوں پر بیریکیڈ لگائے گئے تھے۔
جن چار سابق وزرائے اعلیٰ کو حراست میں لیا گیا ان میں اروند کیجریوال، ممتا بنرجی، پنارائی وجین اور مانک سرکار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اپوزیشن کے کئی دیگر رہنماؤں کو بھی دارالحکومت میں مختلف مقامات سے حراست میں لے لیا گیا۔ یہ رہنما احتجاج میں شرکت کے لیے جنتر منتر جا رہے تھے۔ تمام سابق وزرائے اعلیٰ کو شام کے وقت حراست سے رہا کر دیا گیا۔ممبئی سے دہلی پہنچنے والی پرواز کے اترتے ہی دہلی پولیس نے ابھیجیت دیپکے اور سی جے پی کے دو دیگر رہنماؤں، سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو طیارے کے اندر ہی حراست میں لے لیا۔
سی جے پی کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں دیپکے نے طیارے میں آنے والے پولیس افسران سے کہا، ’’ہم یہاں گرفتار ہونے کے لیے آئے ہیں آئیے اور ہمیں گرفتار کیجیے۔‘‘دہلی پولیس نے کہا کہ سی جے پی کے پاس جنتر منتر پر احتجاج کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ دیپکے نے کہا کہ سی جے پی کے رہنماؤں کو مجرموں کی طرح حراست میں لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے بھی ایسا نہیں کیا تھا اور یہ طرزِ عمل آمریت جیسا ہے۔یوٹیوبر دھروو راٹھی کو گروگرام کے سیکٹر 56 میں واقع ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا۔
حراست میں لیے گئے کئی رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ پولیس انہیں کئی گھنٹوں تک گاڑیوں میں ادھر اُدھر گھماتی رہی۔سی پی ایم کے جنرل سکریٹری ایم اے بے بی، بائیں بازو کی رہنما برندا کرات، سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ، سماجی کارکن یوگیندر یادو، وکیل پرشانت بھوشن اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی صدر نہا بورا کو بھی حراست میں لیا گیا۔اپوزیشن جماعتوں نے ان حالات کو ایمرجنسی سے بھی بدتر قرار دیا۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے نوجوانوں سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کی اور کہا کہ یہ یقینی بنایا جائے گا کہ حکومت اور آئین پر حملہ کرنے والوں کو اس کی قیمت چکانی پڑے۔راہل گاندھی اس وقت چنئی میں ’’طلبہ کی گونج‘‘ پروگرام میں شرکت کے لیے موجود تھے۔دن میں تقریباً ایک بجے آکاشوانی بھون کے قریب امتياز علی مارگ پر بیریکیڈ پھلانگنے کے بعد بعض مظاہرین نے سکیورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا، جس میں دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
سکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔شام کے وقت کناٹ پلیس میں واقع ہنومان مندر کے قریب بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آیا، جہاں بعض مظاہرین نے سکیورٹی اہلکاروں پر پتھر پھینکے۔مظاہرین کو حراست میں لینے کے دوران مجموعی طور پر سات سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔



