نیٹ امتحانی مراکز میں طالبات کے ساتھ ناروا سلوک، برا اور سینیٹری پیڈ تک چیک کرنے کے الزامات

File photo
دہلی: ملک بھر میں منعقدہ نیٹ ری ایگزام امتحانی مراکز میں طالبات کے ساتھ سیکورٹی عملے کے مبینہ رویے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
متعدد طالبات نے سوشل میڈیا پر اپنی آپ بیتی بیان کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ امتحان میں نقل روکنے کے نام پر ان کے ساتھ توہین آمیز اور غیر مہذب انداز میں جسمانی تلاشی لی گئی۔ایک طالبہ کے مطابق وہ ماہواری کے دوران امتحان دینے گئی تھی۔
میٹل ڈیٹیکٹر سے گزرنے کے دوران الارم بجنے پر سیکیورٹی عملے نے اس پر شک ظاہر کیا اور مبینہ طور پر اسے سینیٹری پیڈ استعمال کرنے کا ثبوت دینے کے لیے اپنی پینٹ نیچے کر کے دکھانے پر مجبور کیا۔ طالبہ کا کہنا ہے کہ امتحان کے دباؤ اور وقت کی کمی کے باعث اسے یہ ذلت آمیز صورتحال برداشت کرنا پڑی۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی شکایات کے مطابق ایسے واقعات صرف ایک مرکز تک محدود نہیں تھے بلکہ مختلف امتحانی مراکز میں متعدد طالبات کو اسی نوعیت کے تجربات کا سامنا کرنا پڑا۔کئی دیگر طالبات نے بھی الزام لگایا کہ ان کی برا میں موجود دھاتی ہکس کی وجہ سے میٹل ڈیٹیکٹر نے سگنل دیا جس کے بعد انہیں الگ لے
جا کر انتہائی غیر مناسب انداز میں تلاشی لی گئی۔ بعض طالبات کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی برا تک اتارنے پر مجبور کیا گیا جس سے انہیں شدید ذہنی اذیت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
والدین کا کہنا ہے کہ امتحان سے قبل اس قسم کی کارروائیوں نے طالبات کو شدید ذہنی دباؤ اور نفسیاتی پریشانی میں مبتلا کر دیا۔ انہوں نے (این ٹی اے) سے واقعے کی تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ان الزامات کے سامنے آنے کے بعد معاملہ بحث کا موضوع بن گیا ہے جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔



