ایس آئی آر کے خلاف سپریم کورٹ پہنچے بیرسٹر اسدالدین اویسی
صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے طریقۂ کار کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
ایڈوکیٹ نظام الدین پاشاہ نے چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کے سامنے معاملہ پیش کرتے ہوئے اسے کل ہونے والی سماعت میں اسی نوعیت کی دیگر درخواستوں کے ساتھ شامل کرنے کی اپیل کی۔
اسدالدین اویسی ان اپوزیشن قایدین میں شامل ہوگئے ہیں جنہوں نے ایس آئی آر اور اس عمل کے تحت ووٹر لسٹوں سے نام حذف کئے جانے کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔
لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی اور انڈیا بلاک کے دیگر 9 رہنماؤں نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔
درخواست گزاروں میں کانگریس قائدین راہول گاندھی اور ملکارجن کھرگے کے علاوہ ترنمول کانگریس کے سوگاتا رائے، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، آر جے ڈی کے تیجسوی پرساد یادو، شیوسینا (یو بی ٹی) کے سنجے راوت، سی پی آئی (ایم) کے ایم اے بیبی، سی پی آئی کے ڈی راجہ، جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی مہوا ماجھی، این سی پی (شرد پوار گروپ) کی سپریا سولے اور انڈین یونین مسلم لیگ کے ای ٹی محمد بشیر شامل ہیں۔



