نیشنل

بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی اتر سنگھ بھادنا کو گاوں والوں نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا

راجستھان میں سابق بی جے پی رکن اسمبلی کا قتل، کانکنی لیز اور کرشر پلانٹ کے تنازع پر دیہاتیوں سے جھڑپ

 

جئے پور : راجستھان کے بھرت پور میں کانکنی لیز اور کرشر پلانٹ کے تنازع پر دیہاتیوں کے ساتھ مبینہ جھڑپ میں سابق بی جے پی رکن اسمبلی اَتَر سنگھ بھادنا ہلاک ہوگئے۔ یہ واقعہ اتوار کی دیر شام ویر پولیس اسٹیشن کے حدود میں واقع بھونڈا گاؤں میں پیش آیا، جہاں بھڈانا اپنی کانکنی لیز پر پہنچے تھے۔

 

اطلاعات کے مطابق، بھونڈا گاؤں کے سیکڑوں دیہاتی جمع ہوگئے اور مبینہ طور پر لاٹھیوں سے ان پر حملہ کردیا۔ شدید زخمی حالت میں انہیں ویر کمیونٹی ہیلتھ سنٹر منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی نازک حالت کے پیش نظر جے پور منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔ جے پور کے سوائی مان سنگھ ہاسپٹل میں اتوار کی نصف شب ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ ان کے باڈی گارڈ گگن شرما بھی زخمی ہوئے، جنہیں ضلع کے راج بہادر میموریل ہاسپٹل منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

 

دو سال سے جاری تھا احتجاج

اَتَر سنگھ بھادنا کا تعلق ہریانہ سے تھا۔ وہ 2003 میں راجستھان کے بایانہ اسمبلی حلقہ سے بی جے پی کے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور 2008 تک اس عہدے پر فائز رہے۔

 

بھونڈا گاؤں کی پہاڑیوں کے قریب ان کی کانکنی لیز اور کرشر پلانٹ تھا، تاہم کانکنی لیز ان کی اہلیہ کملیش بھڈانا کے نام پر تھی۔ بھونڈا اور رائے پور گاؤں کے باشندے گزشتہ دو سال سے کانکنی لیز اور کرشر پلانٹ کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں متعدد مرتبہ دھرنے دیئے گئے اور کانکنی مقام تک جانے والی سڑک بھی بند کی گئی۔

 

احتجاج کرنے والے دیہاتیوں کا الزام تھا کہ کانکنی گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے گرام پنچایت کی چراگاہ کی زمین استعمال کی جا رہی تھی۔ دیہاتیوں نے گزشتہ دو سال سے کرشر پلانٹ کو بند کر رکھا تھا، جبکہ بھڈانا انتظامیہ کی مدد سے اسے دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

 

اطلاعات کے مطابق، عدالت سے کرشر پلانٹ چلانے کی اجازت ملنے کے بعد بھادنا نے اتوار کو اسے دوبارہ شروع کیا، جس پر بڑی تعداد میں دیہاتی وہاں پہنچ گئے اور مبینہ طور پر ان پر حملہ کردیا۔

 

ویر پولیس اسٹیشن کے انچارج دھیریندر سنگھ نے بتایا کہ دیہاتیوں اور کرشر پلانٹ کے مالک کے درمیان جھڑپ کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی۔ بھڈانا کو ڈاکٹروں نے جے پور منتقل کرنے کا مشورہ دیا، تاہم وہاں پہنچنے پر انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔ پولیس حملے میں ملوث افراد کی تلاش اور گرفتاری کے لئے مختلف مقامات پر دھاوے کر رہی ہے۔

Shadi
Shadi

متعلقہ خبریں

Back to top button