’قدرت یا شاید ہمارے اپنے اعمال… نیپال میں بھیانک تباہی پر فلم اداکارہ منیشا کوئرالا کا درد چھلک پڑا

ممبئی: نیپال میں حال ہی میں آنے والے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ اس سانحے کے بعد معروف اداکارہ منیشا کوئرالا نے اپنے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کے اندر ایک ایسا شدید درد ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آخر نیپال کو بار بار آنے والی ایسی قدرتی آفات سے کب نجات ملے گی۔ واضح رہے کہ منیشا کوئرالا کا تعلق نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو سے ہے۔منیشا اتوار کو روحانی رہنما سَدگرو کی جانب سے منعقد کیے گئے ’نیپال کے ساتھ یکجہتی‘ پروگرام میں شریک ہوئیں۔
اس دوران وہ کافی جذباتی نظر آئیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کا ملک اس مشکل وقت سے بھی نکل آئے گا۔منیشا نے کہا“آج جب گرو جی نے مجھے بلایا تو میں بغیر کچھ سوچے یہاں آ گئی۔ ہم جس درد سے گزر رہے ہیں وہ بہت بڑا اور سمجھ سے بالاتر ہے۔ آج میں جتنی خاموش اور الجھن کا شکار ہوں شاید پہلے کبھی نہیں رہی۔ میں خود بھی اسے سمجھ نہیں پا رہی ہوں۔”منیشا کوئرالا نے کئی سوال اٹھائےاداکارہ نے مزید کہا“ہمارے ملک میں اتنی بار آفات کیوں آتی ہیں؟
کبھی زلزلہ آتا ہے اور خاندان تباہ ہو جاتے ہیں تو کبھی ایسا خوفناک سیلاب آتا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کو تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ جب زلزلہ آیا تھا تو میں سندھُو پالچوک گئی تھی۔ میں نے وہاں ٹوٹے ہوئے گھر اور بکھری ہوئی زندگیاں دیکھی تھیں۔ اب میرے اندر اتنی ہمت بھی نہیں ہے کہ میں راسُوا جا کر وہاں کے حالات دیکھ سکوں۔”پروگرام کے دوران اپنی بات جاری رکھتے ہوئے منیشا نے کہا“کیوں قدرت، یا شاید ہمارے اپنے اعمال، ہمیں بار بار اتنی تکلیف دیتے ہیں؟
کیا اس درد کو کم نہیں کیا جا سکتا؟ اے خدا، کیا ہمیں کم تکلیف مل سکتی ہے؟ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ اپنے جذبات کو کیسے سمجھوں۔ یہ زندگی ہمیں اور کتنی تکلیف برداشت کرنے پر مجبور کرے گی؟میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ جب ہمارے سامنے کوئی مشکل آتی ہے تو ہمارے پاس اس سے نکلنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ ہمیں اپنی پوری ہمت جمع کرکے آہستہ آہستہ آگے بڑھنے کے سوا کچھ نہیں کرنا ہوتا۔ اور ہمارا ملک بھی یہی کرے گا۔
ہمارے لوگ بھی یہی کریں گے۔” رپورٹسکے مطابق نیپال میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں تقریباً 752 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ تقریباً 2,500 افراد لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق تبت کی سرحد کے قریب ایک گلیشیئر کا بڑا حصہ ٹوٹنے کے باعث یہ سیلاب آیا۔ اس کے بعد تیز رفتار پانی بھوٹے کوشی دریا
اور اس کی معاون ندی لینڈے کھولا سے ہوتا ہوا تریشولی دریا میں جا پہنچا۔



