نیشنل

لال قلعہ کار بم دھماکہ کیس میں این آئی اے کی 7,500 صفحات کی چارج شیٹ

نئی دہلی – دہلی کے لال قلعہ کے قریب  پیش آئے کار بم دھماکہ پر قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے پہلی چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔ این آئی اے نے نئی دہلی میں خصوصی عدالت میں 7,500 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پیش کی ہے۔

 

الزامات کے مطابق 10 نومبر 2025 کی شام ڈاکٹر عمر  نبی نے کار چلاتے ہوئے خودکش حملہ کیا تھا۔ اس واقعے میں 11 افراد ہلاک ہوئے جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہوئے۔

 

این آئی اے نے اس کیس میں طویل تحقیقات کی ہیں اور جموں و کشمیر، ہریانہ، اتر پردیش، مہاراشٹر، گجرات سمیت دہلی-این سی آر کے مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر تفتیش کی گئی۔ اس دوران 588 افراد کے بیانات ریکارڈ کئے گئے اور مختلف نوعیت کے شواہد اکٹھے کیے گئے۔

 

چارج شیٹ میں این آئی اے نے کئی اہم انکشافات کیے ہیں۔ ایجنسی کے مطابق کار دھماکے میں ہلاک ہونے والے ڈاکٹر عمر  نبی سمیت 10 افراد کے روابط تنظیم "انصار غزوت الہند” (AGuH) سے تھے۔ ان میں ڈاکٹر نبی کے علاوہ عامر رشید میر، جسیر بلال وانی، ڈاکٹر مزمل شکیل، ڈاکٹر عادل احمد راتھر، ڈاکٹر شاہین سعید، مفتی عرفان احمد واگے، سواۓب، ڈاکٹر بلال نصیر ملا اور یاسر احمد ڈار شامل ہیں۔

 

این آئی اے نے کہا ہے کہ یہ تنظیم "القاعدہ ان دی انڈین سب کانٹی نینٹ” (AQIS) کی ذیلی تنظیم کے طور پر کام کرتی ہے۔ وزارت داخلہ نے جون 2018 میں AQIS اور اس کی ذیلی تنظیموں کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا تھا۔

 

چارج شیٹ کے مطابق ان افراد پر الزام ہے کہ وہ بھارتی حکومت کو ختم کر کے شریعت کے نفاذ کی سازش کر رہے تھے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے مہلک ہتھیار بھی جمع کیے تھے۔

 

ملزمین کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ 1967 (UAPA)، بھارتیہ نیاۓ سنہتا 2023، دھماکہ خیز مواد ایکٹ 1908، اسلحہ ایکٹ 1959 اور عوامی املاک کو نقصان سے بچاؤ ایکٹ 1984 کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

 

این آئی اے نے چارج شیٹ میں بتایا ہے کہ اب تک اس کیس میں 11 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ مزید افراد کے کردار کی بھی نشاندہی ہوئی ہے۔ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button