حکومت مردہ باد” نعرہ لگانا جرم نہیں – پولیس وزیروں کو نہیں، عوام کو جواب دہ ہے: بمبئی ہائی کورٹ کا اہم تبصرہ

سرکاری فیصلوں کے خلاف احتجاج جرم نہیں، بمبئی ہائی کورٹ نے ایس ڈی پی آئی لیڈر کو شہر بدر کرنے کا حکم منسوخ کر دیا
ممبئی: بمبئی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ حکومت کے فیصلوں کے خلاف احتجاج کرنا یا حکومت مخالف نعرے لگانا کسی شہری کو اس کے علاقے یا شہر سے بے دخل کرنے کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت نے سعید احمد عبد الواحد چودھری، جو کے مہاراشٹر جنرل سکریٹری اور سابق لوک سبھا امیدوار ہیں، کے خلاف جاری ایک سالہ شہر بدر کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا۔
جسٹس نے ممبئی پولیس کی کارروائی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "بی جے پی حکومت مردہ باد” یا "امیت شاہ مردہ باد” جیسے نعرے جلاوطنی جیسی سخت کارروائی کی بنیاد نہیں بن سکتے۔ سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ پولیس عوام کو جواب دہ ہے، وزراء کو نہیں، اور شہریوں کو حکومت کے فیصلوں کے خلاف احتجاج اور آواز اٹھانے کا آئینی حق حاصل ہے۔
عدالت نے کہا کہ سعید احمد چودھری کے خلاف درج مقدمات زیادہ تر احتجاجی مظاہروں سے متعلق تھے، جن میں شہریت ترمیمی قانون ، این آر سی ، بابری مسجد، گیان واپی مسجد، وقف بورڈ میں مبینہ بدعنوانی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج شامل تھا۔ ان کے خلاف زیادہ تر مقدمات تعزیرات ہند کی دفعہ 188 کے تحت درج کیے گئے تھے، جو عوامی حکم عدولی سے متعلق ہے۔
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ صرف احتجاجی سرگرمیوں کی بنیاد پر کسی شہری کو اس کے اپنے شہر سے نکال دینا پولیس اختیارات کا غلط استعمال ہے۔ عدالت نے ممبئی پولیس کے ڈپٹی کمشنر اور بعد ازاں کونکن ڈویژن کے کمشنر کی جانب سے جاری دونوں احکامات کو منسوخ کرتے ہوئے درخواست گزار کو راحت فراہم کی۔



