15 دستاویزات بھی نہ بچا سکے – آسام ہائی کورٹ نے مسلم شخص کو غیر ملکی قرار دے دیا

گوہاٹی: گوہاٹی ہائی کورٹ نے آسام کے ایک مسلم شہری امین الحق کو غیر ملکی قرار دینے والے فارنرز ٹریبونل کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ان کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کی جانب سے پیش کیے گئے دستاویزات بھارتی شہریت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔
جسٹس کلیان رائے سورنا اور شمیمہ جہاں پر مشتمل بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ امین الحق نے 15 دستاویزات پیش کیے، جن میں 1951 کے این آر سی ریکارڈ، مختلف برسوں کی ووٹر فہرستیں، 1973 کی اراضی دستاویز، اسکول سرٹیفکیٹ، پین کارڈ اور ووٹر شناختی کارڈ شامل تھے، تاہم وہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ وہ بھارتی شہری ہیں۔ عدالت نے فارنرز ایکٹ 1946 کی دفعہ 9 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہریت ثابت کرنے کی ذمہ داری متعلقہ شخص پر عائد ہوتی ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ فارنرز ٹریبونل کی جانب سے شواہد کا جائزہ لینے میں کوئی قانونی خامی یا بے ضابطگی نہیں پائی گئی۔ ٹریبونل نے مختلف سرکاری ریکارڈ میں عمر، ناموں اور رہائشی مقامات میں تضادات کی نشاندہی کرتے ہوئے درخواست گزار کے دعوے کو مسترد کیا تھا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آسام کے فارنرز ٹریبونل کے نظام پر مسلسل تنقید ہو رہی ہے۔ 2025 میں نیشنل لا اسکول آف انڈیا یونیورسٹی اور کوئین میری یونیورسٹی لندن کی ایک رپورٹ میں اس نظام کو آئینی اصولوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق سے متصادم قرار دیتے ہوئے زیادہ منصفانہ اور شفاف قانونی نظام قائم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔



