نیشنل

سرکاری اسکولوں میں کسی بچے کو ہندو منتر پڑھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا – چھتیس گڑھ ہائی کورٹ

رائے پور: چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے جمعرات کو ایک اہم فیصلے میں واضح کیا کہ سرکاری اسکولوں میں کسی بھی طالب علم کو ہندو  منتر پڑھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ اگر مستقبل میں کسی بچے کو زبردستی ایسی مذہبی سرگرمی میں شریک کیا گیا تو متاثرہ فریق دوبارہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے اور مناسب کارروائی کی جائے گی۔

 

جسٹس امیتیندر کشور پرساد اس درخواست کی سماعت کر رہے تھے، جس میں ریاستی حکومت کے 12 جون کے اس سرکلر کو چیلنج کیا گیا تھا، جس کے تحت تمام سرکاری اسکولوں میں قومی ترانے اور قومی گیت کے ساتھ سرسوتی وندنا، گایتری منتر، گرو منتر، دیپ منتر، دوپہر کے کھانے سے قبل بھوجن منتر اور تعطیل سے قبل شانتی منتر پڑھنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

 

سماعت کے دوران ریاستی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ اگرچہ سرکلر جون کے اوائل میں جاری کیا گیا تھا، تاہم اس پر ابھی تک عمل درآمد شروع نہیں ہوا۔ اس بیان کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے عدالت نے درخواست نمٹا دی، تاہم درخواست گزاروں کو یہ آزادی دی کہ اگر کسی طالب علم کو زبردستی دعائیں پڑھنے پر مجبور کیا جائے تو وہ دوبارہ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

 

یہ درخواست سابق چیئرمین چھتیس گڑھ وقف بورڈ عبدالسلام رضوی، سابق چیئرمین اقلیتی ڈپارٹمینٹ کانگریس مہندر چھبڑا اور بلاس پور کے سماجی کارکن شفیق احمد نے دائر کی تھی۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ حکومت کا یہ سرکلر آئین کے سیکولر اصولوں اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے، کیونکہ اس میں ایک مخصوص مذہب کی  منتروں کو سرکاری اسکولوں میں لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے ضمیر کی آزادی اور مذہبی آزادی کے تحفظ کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔

 

درخواست میں مزید کہا گیا کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں ایک مذہب کی مذہبی رسومات کو فروغ دینا آئینی مساوات اور مذہبی غیر جانبداری کے اصولوں کے منافی ہے، اس لیے متنازع سرکلر کو کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button