تلنگانہ

جامعہ نظامیہ کے تحفظ کے لئے انجمن طلبہ قدیم متحرک؛ میم ٹی وی کی مبینہ بدسلوکی کے خلاف کمشنر پولیس سے نمائندگی

انجمن طلبہ قدیم جامعہ نظامیہ کے ایک نمائندہ وفد نے جامعہ نظامیہ حیدرآباد میں میم ٹی وی کی جانب کی گئی بدسلوکی کے خلاف کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات اور نمائندگی کی۔وفد میں مولانا سید شاہ نعمت اللہ قادری، مولانا محمد سلطان احمد نقشبندی معتمد انجمن طلبہ قدیم، مولانا محمد محی الدین محمودی خازن انجمن کے علاوہ مولانا حافظ احمد شريف ، مولانا حافظ محمد وزیر ، مولانا حافظ محمد طاہر قادری اور دوسرے موجود تھے۔

 

اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا سید شاہ نعمت اللہ قادری صاحب نے کہا کہ جامعہ نظامیہ عالم اسلام کا مقدس ادارہ ہے۔ اور حضرت شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی قدس سرہ العزیز کے منشاء کے مطابق مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی خلیل احمد صاحب امیر جامعہ جامعہ نظامیہ کی امارت میں شب و روز علوم اسلامیہ کی خدمت انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ نظامیہ اپنی امانتوں کی حفاظت میں پابند عہد ہے۔

 

جامعہ نظامیہ گزشتہ تیس پینتیس سال سے رائے درگ زمین کا مقدمہ لڑنے رہا ہے۔ جس وقت شہر میں زمینات کی قیمت کم تھی اس وقت سے جامعہ نظامیہ اس زمین کی عدالتی چارہ جوئی کے ذریعہ حفاظت کر رہا ہے۔ آج اس زمین کی قیمت میں اضافہ ہوا تو لوگ متوجہ ہو رہے ہیں۔

 

مولانا محمد سلطان احمد نقشبندی صاحب معتمد انجمن طلبہ قدیم جامعہ نظامیہ نے کہا کہ انجمن طلبہ قدیم ہمیشہ جامعہ نظامیہ کے تحفظ کیلئے شانہ بہ شانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میم ٹی وی کے رپورٹر اور خواتین نمائندوں نے منصوبہ بندی کے ساتھ جامعہ نظامیہ کے مقدمہ کو کمزور کرنے کے مقصد سے یہ مذموم کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ نظامیہ نے امن و محبت کے ساتھ 155 سال کی تکمیل کی۔ انہوں نے کہا کہ زمانہ کے سرد و گرم اور زمانہ کے انقلابات کے باوجود جامعہ نظامیہ اپنے بانی کے مشن کی تکمیل میں مصروف ہے اور عالم اسلام میں اپنی روشن شناخت رکھتا ہے

 

۔ انہوں نے کہا کہ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی خلیل احمد صاحب امیر جامعہ جامعہ نظامیہ کی مدبرانہ قیادت کے سبب جامعہ نے ترقی کے منازل طئے کئے ہیں۔ انہوں نے کہا دکن میں یہ امر تجربہ ہے کہ جامعہ نظامیہ کے خلاف جو تحریک بھی اٹھی اور جس نے بھی مخالفت کی وہ ناکام و نامراد ہوئے لیکن جامعہ کی آن بان شان قائم رہی۔

 

انہوں نے کہا کہ انجمن طلبہ قدیم کی پالیسی رہی کہ وہ خاموشی کے ساتھ خدمت انجام دیتی ہے اور نام و نمود کے بغیر علمی سنگ میل طئے کرتی ہے۔ انہوں رائے درگ زمین کے مقدمہ کے جامعہ نظامیہ کی کوششوں اور چارہ جوئی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button