ٹیپو سلطان کے نام پر کڑپہ میں تنازعہ بھڑک اٹھا — سڑکیں میدانِ جنگ میں تبدیل، پولیس لاٹھی چارج
آندھرپردیش کے کڑپہ شہر میں ہفتہ کے روز اس وقت حالات کشیدہ ہو گئے جب شہر کے الماس پیٹ چوراہے کو ٹیپو سلطان کے نام سے منسوب کرنے کے معاملہ پر دو گروپ آمنے سامنے آگئے۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر پولیس کو صورتحال قابو میں کرنے کے لیے لاٹھی چارج کرنا پڑا، جبکہ پتھراؤ کے دوران ایک پولیس انسپکٹر زخمی ہو گیا۔
تفصیلات کے مطابق کڑپہ میونسپل کارپوریشن نے چند دن قبل الماس پیٹ سرکل کا نام ’’ٹیپو سلطان سرکل‘‘ رکھنے کی قرارداد منظور کی تھی۔ یہ مطالبہ کافی عرصہ سے کیا جا رہا تھا اور سابق انتخابی مہم کے دوران این چندرا بابو نائیڈو نے بھی اقتدار میں آنے پر اس وعدے کا اعلان کیا تھا۔
تاہم اس فیصلے کے خلاف بعض ہندو تنظیموں اور بی جے پی کارکنوں نے مخالفت شروع کر دی۔ بی جے پی کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ 10 مئی کو اسی مقام کو ’’ہنومان سرکل‘‘ کے نام سے موسوم کیا جائے گا، جس کے بعد مقامی مسلم تنظیموں میں شدید برہمی پھیل گئی۔
ہفتہ کی صبح سے بڑی تعداد میں مسلمان الماس پیٹ سرکل پر جمع ہونا شروع ہو گئے اور ٹیپو سلطان کے نام کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کرنے لگے۔ حالات بگڑتے دیکھتے ہوئے حکومت نے مقامی ارکان اسمبلی اور دیگر قائدین کو موقع پر روانہ کیا تاکہ بات چیت کے ذریعہ مسئلہ حل کیا جا سکے۔
بعد ازاں پولیس نے دونوں فریقوں سے مذاکرات کرتے ہوئے ’’ٹیپو سلطان سرکل‘‘ اور ’’ہنومان سرکل‘‘ کے پوسٹرس ہٹا دیے، لیکن احتجاج جاری رہنے پر پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مجمع کو منتشر کیا۔ اسی دوران پتھراؤ کے واقعات پیش آئے جن میں انسپکٹر نرسمہا راؤ زخمی ہو گئے، جبکہ بعض سیاسی و سماجی قائدین کو بھی معمولی چوٹیں آئیں۔
شہر میں فی الحال حالات کشیدہ بتائے جا رہے ہیں اور پولیس کی جانب سے حساس علاقوں میں اضافی نفری تعینات کرتے ہوئے گشت بڑھا دیا گیا ہے۔



