ان فونس میں واٹس ایپ اور ٹیلی گرام ایپس ہوجائیں گے بند۔یکم جنوری سے نئے قوانین

نئی دہلی: واٹس ایپ، ٹیلی گرام اور سگنل جیسی کمیونیکیشن ایپس کے لیے سم بائنڈنگ کے نئے قوانین آئندہ سال یکم جنوری سے نافذ ہونے جا رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ ایپس کو استعمال کرنے کے لیے فون میں رجسٹریشن کے دوران استعمال کیا گیا فعال سم کارڈ موجود ہونا ضروری ہوگا۔
محکمۂ ٹیلی کام نے ہدایات جاری کرتے ہوئے متعلقہ پلیٹ فارمز کو 31 دسمبر تک صارفین کے اکاؤنٹس کو ان فعال سم کارڈز سے منسلک کرنے کی ہدایت دی ہے جن کے ذریعے ان اکاؤنٹس کی رجسٹریشن کی گئی تھی۔مرکزی حکومت نے یہ قوانین موبائل نمبروں کا استعمال کرتے ہوئے ہونے والے سائبر جرائم اور آن لائن دھوکہ دہی پر قابو پانے کے مقصد سے متعارف کرائے ہیں۔
ان قوانین پر رواں سال مارچ سے عمل درآمد ہونا تھا لیکن انڈسٹری سے وابستہ اداروں کی درخواست پر آخری تاریخ میں توسیع کردی گئی۔نئے قوانین کے مطابق اگر فون سے سم کارڈ نکال دیا جائے یا وہ فون میں موجود نہ ہو تو واٹس ایپ، ٹیلی گرام اور سگنل جیسی ایپس کی خدمات خودکار طور پر بند ہوسکتی ہیں۔
فی الحال ان ایپس کو انسٹال کرتے وقت سم کارڈ کے ذریعے موبائل نمبر کی تصدیق کی جاتی ہے۔ لیکن تصدیق مکمل ہونے کے بعد اگر سم کارڈ فون سے نکال بھی دیا جائے یا اسے غیر فعال کردیا جائے تب بھی ایپس کام کرتی رہتی ہیں۔اسی وجہ سے دوسرے ممالک میں موجود سائبر مجرم بھی ان ایپس کا استعمال کرتے ہوئے دھوکہ دہی کی سرگرمیاں انجام دے سکتے ہیں۔
سائبر ماہرین کا خیال ہے کہ سم بائنڈنگ کے نئے قوانین سے ایسی غیر قانونی سرگرمیوں میں کمی آسکتی ہے۔ اگر کوئی شخص فون میں سم کارڈ کے بغیر واٹس ایپ استعمال کر رہا ہے تو نئے قوانین کے تحت اس کے فون پر ایپ کی خدمات بند ہوسکتی ہیں۔اگر کوئی صارف ایک ہی ایپ کو مختلف ڈیوائسز پر استعمال کرتا ہے تو بنیادی ڈیوائس کے علاوہ دیگر ڈیوائسز پر خدمات متاثر ہوسکتی ہیں۔
واٹس ایپ ویب استعمال کرنے والے: ابتدا میں یہ تجویز دی گئی تھی کہ ویب لاگ اِن ہر چھ گھنٹے بعد خودکار طور پر لاگ آؤٹ ہوجائے لیکن بعد میں اس شرط کو ختم کردیا گیا۔ اس کے بجائے محکمۂ ٹیلی کام نے خطرے کی بنیاد پر لاگ آؤٹ کرنے کا طریقہ متعارف کرایا ہے۔



