نیشنل

راجستھان میں جیشِ محمد سے مبینہ روابط کے الزام میں خاتون گرفتار – اے ٹی ایس کی تحقیقات جاری

جئے پور –  راجستھان اینٹی ٹیررازم اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے جے پور میں ایک خاتون کو کالعدم تنظیم جیشِ محمد سے مبینہ روابط اور سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق فوجی انٹیلی جنس سے موصولہ اطلاعات کی بنیاد پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت یہ کارروائی انجام دی گئی۔

 

پولیس کے مطابق گرفتار خاتون کی شناخت ببیتا کے نام سے ہوئی ہے، جسے جے پور کے دیہی علاقے سے حراست میں لیا گیا۔ مزید تفتیش کے لئے عدالت نے اسے سات روزہ ریمانڈ پر اے ٹی ایس کے حوالے کیا ہے۔

 

راجستھان اے ٹی ایس کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس منیش ترپاٹھی نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

 

انہوں نے بتایا کہ نگرانی اور بعد ازاں تحقیقات کے دوران قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ بننے والی سرگرمیوں میں خاتون کے مبینہ کردار سے متعلق اطلاعات موصول ہونے پر اسے حراست میں لیا گیا۔

 

تفتیشی ایجنسیوں کا دعویٰ ہے کہ خاتون سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کے ذریعہ پاکستان میں موجود بعض نیٹ ورکس اور شدت پسند عناصر سے رابطے میں تھی۔ حکام کے مطابق واٹس ایپ چیٹس اور دیگر آن لائن رابطوں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

 

تفتیش کاروں کے مطابق خاتون نے مبینہ طور پر اپنی شناخت تبدیل کی تھی اور بعد میں کالعدم تنظیموں سے وابستہ افراد سے رابطہ میں رہی۔ تاہم یہ تمام دعوے ابتدائی تحقیقات کا حصہ ہیں اور ان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

 

ایس پی منیش ترپاٹھی نے کہا کہ تحقیقات کے دوران جیشِ محمد سے متعلق بعض حوالہ جات سامنے آئے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی معلومات ملی ہیں کہ خاتون سے رابطے میں رہنے والا ایک شخص جیشِ محمد سے منسلک ہو سکتا ہے۔ اس مرحلے پر یہ جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا خاتون کا خود بھی اس تنظیم سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ تحقیقات مکمل ہونے تک کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا مناسب نہیں ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button