جنرل نیوز

حضرت بابا فریدالدین گنجِ شکرؒ صوفی ازم کے آسمان پر چودھویں کے چاند تھے: مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

حضرت بابا فریدالدین گنجِ شکرؒ صوفی ازم کے آسمان پر چودھویں کے چاند تھے: مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

حیدرآباد، 22 جون (پریس ریلیز)اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کے ذریعے انسانیت کو رشد و ہدایت کی وہ شمعیں عطا فرماتا ہے جن کی روشنی صدیوں تک دلوں کو منور کرتی رہتی ہے۔ تاریخِ اسلام میں اولیائے کرام کی ایک درخشاں کہکشاں ہے، جس کے ہر ستارے نے محبت، اخلاص، انسان دوستی اور روحانیت کی لازوال داستانیں رقم کی ہیں۔ انہی مقدس نفوس میں ایک عظیم المرتبت ہستی حضرت بابا فریدالدین مسعود گنجِ شکرؒ کی ہے، جو صوفی ازم کے آسمان پر چودھویں کے چاند کی مانند درخشاں اور تابندہ تھے۔ آپؒ نے اپنی پاکیزہ زندگی، زہد و تقویٰ، عشقِ الٰہی اور خدمتِ خلق کے ذریعے برصغیر میں روحانی اقدار کو فروغ دیا اور لاکھوں تشنہ دلوں کو معرفتِ الٰہی کے جام سے سیراب فرمایا۔

خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز، نامپلی، حیدرآباد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ حضرت بابا فریدالدین گنج شکرؒ سلسلہ چشتیہ کے عظیم پیشوا اور برصغیر میں تصوف و روحانیت کے روشن مینار تھے۔ آپؒ کی تعلیمات کا بنیادی محور محبت، رواداری، عاجزی، صبر، قناعت اور انسانیت کی خدمت تھا۔ آپؒ نے اپنے کردار اور عمل سے یہ پیغام دیا کہ بندگانِ خدا سے محبت دراصل خالقِ کائنات کی رضا کے حصول کا ذریعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت بابا فریدؒ کی خانقاہ علم و عرفان کا ایسا مرکز تھی جہاں سے محبت، اخوت اور امن و آشتی کی خوشبو پورے برصغیر میں پھیلی۔ آپؒ کے ملفوظات اور ارشادات آج بھی دلوں کو نرم کرتے اور انسان کو اخلاقِ حسنہ کی طرف راغب کرتے ہیں۔ حضرت نظام الدین اولیاءؒ جیسے عظیم صوفی بزرگ آپؒ کے فیض یافتہ تھے، جنہوں نے بعد میں اسی روحانی مشن کو آگے بڑھایا۔

مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں جبکہ نفرت، خود غرضی اور مادہ پرستی نے انسانی معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، حضرت بابا فریدالدین گنج شکرؒ کی تعلیمات پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان کے افکار و تعلیمات کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اپنائیں اور محبت، رواداری، ایثار اور خدمتِ خلق کے جذبے کو فروغ دیں، تاکہ ایک پرامن، بااخلاق اور مثالی معاشرہ تشکیل پا سکے۔

فرید عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ’’یکتا‘‘ ، ’’بے مثال‘‘ اور ’’لاثانی‘‘۔ بابا فریدؒ کا شمار چھٹی صدی ہجری کے کبار صوفیاء میں ہوتا ہے آپ کی پیدائش 584ھ بمطابق 1173ء میں کھتوال میں ہوئی۔ آپ کا نسب حضرت عمر فاروقؓ سے ملتا ہے۔ آپ کابل کے بادشاہ فرخ شاہ کے خاندان سے تھے۔ آپ کے والد کا نام جمال الدین سلیمان جبکہ والدہ قرسم بی بی تھیں جو نہایت عابدہ و زاہدہ تھیں۔ آپ کے والد آپ کے بچپن میں ہی انتقال کرگئے تھے۔ والدہ محترمہ نے اس بچے کی تربیت کی اور اسے گوہر کامل بنادیا۔

 

 

 

ابتدائی تعلیم والدہ ماجدہ سے حاصل کی۔ گیارہ برس کی عمر میں قرآن مجید حفظ کرلیا۔اسی زمانے میں آپ کی ذہانت اور نیکی کا چرچا پورے شہر میں ہوگیا۔ اپنے دور کے مروجہ ظاہری علوم کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد ملتان کا قصد کیا۔ مولانا منہاج الدین ترمذی سے فقہ کی معروف کتاب ’نافع‘ پڑھی اور علوم دینیہ حاصل کرنے کے بعد قندھار تشریف لے گئے وہاں پانچ برس قیام فرمایا۔ تفسیر، حدیث، فقہ، صرف و نحو اور منطق میں اعلیٰ قابلیت حاصل کی۔ بابا فریدؒ ریاضت، عبادت، معاہدہ،فقر اور ترک وتجدید میں بے مثال تھے۔ اس کے بعد وہ دہلی روانہ ہوگئے اور اپنے مرشد کے زیر نگرانی روحانی تربیت کے مدارج طے کیے۔ انہوں نے کافی عرصہ ہانسی میں بھی قیام کیا۔ ہانسی کی تنہائی سے انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور صوفی ازم کی چاروں منازل عالم ناسوت، عالم ملکوت، عالم جبروت اور عالم لاہوت طے کیں۔ ہانسی کے 20 سالہ قیام کے دوران دینی علوم کے ساتھ ساتھ باطنی اور روحانی علوم بھی حاصل کیے۔ شریعت اور طریقت میں عروج حاصل کیا۔ ان کا چلۂ معکوس (چالیس دن تک کنویں میں الٹے لٹکے رہنا) کی روایت کا ذکر بھی ملتا ہے۔اپنے مرشد کے انتقال کے بعد چشتیہ سلسلے کے سربراہ بنے اور اجودھن میں رہائش پذیر ہوئے یہاں پر لوگ ان کے حلقہ ارادت میں داخل ہوئے۔ وہاں پر انہوں نے ایک جماعت خانے کی بنیاد رکھی جہاں پر ہر وقت بہت سے دانشور اور صوفی ہر وقت موجود رہتے تھے انہیں عربی، فارسی، پنجابی اور ملتانی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔

 

 

 

بابا فرید کی زندگی کے ہزار رنگ ہیں اور ہر رنگ الگ گفتگو کا تقاضا کرتا ہے۔ ان کا تعلق عوام سے تھا وہ عوامی ثقافت کے محافظ تھے۔ مساوات کے قائل تھے اور انسان دوستی کا درس دیتے تھے۔ پنجاب میں سید علی ہجویریؒ (داتا گنج بخش) کے بعد جس صوفی بزرگ نے نمایاں مقام حاصل کیا وہ بابا فریدالدینؒ ہیں۔ ان کا تعلق چشتیہ مکتب فکر سے تھا۔ تصوف کی چشتیہ روایت کا آغاز دسویں صدی عیسوی میں ہوا تھا۔ چشتیہ سلسلے کو مربوط اور منظم کرنے کا کارنامہ بابا فریدؒ نے انجام دیا۔ ان کی حیات، فلسفہ اور تعلیمات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خالق کائنات کی خوشنودی اور معرفت حق ان کا مقصود تھا۔ آپ کے 101 القابات مشہور تھے جس میں خواجہ فرید، بابا فرید، مولانا فرید، منصور فرید، متوکل فرید، متقی فرید، معلم فرید، قطب المواحدین، شیخ فرید، شیخ فرید گنج شکر، جہاں گشت فرید، صوفی فرید، محقق فرید، عبداللہ فرید، حاجی الحاجات وغیرہ شامل ہیں۔

 

 

 

بابا فریدؒ کی تعلیمات بنیادی طور پر وہی ہیں جو ان سے دو صدیاں پہلے سید علی ہجویریؒ متعارف کرواچکے تھے ان کے ہاں بھی مذہبی قانون اور داخلی صوفیانہ صداقت میں ہم آہنگی پیدا کرنے کا رجحان غالب نظر آتا ہے۔ بابا فریدؒ کی وجہ سے تصوف پنجاب میں ایک عوامی تحریک بن گیا تھا۔ وہ فرماتے تھے کہ صوفی وہ ہے جس کا ظاہر اور باطن صفات سے خارج نہ ہو۔ صوفی کے لیے دنیا کی آسائشوں اور بشریت کی گندگی سے محفوظ رہنا بھی ضروری ہے۔

 

وہ ایک چشمہ خیرو برکت تھے۔ اس چشمے سے فیض حاصل کرنے کے لیے خاص و عام کی کوئی تخصیص نہ تھی۔ آپ کی زندگی کا اولین مقصد اسلام کی تبلیغ تھا جس میں شب و روز مصروف رہتے تھے۔ آپ کی طبیعت میں بڑا توازن اور سکون تھا۔ انتہائی بدترین اشتعال کے سامنے بھی برہمی کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ دوسروں کی خطائیں معاف کردیتے تھے۔ ہندو یوگی ان کی خانقاہ میں آتے تھے اور ان سے کسب فیض کرتے تھے۔

 

بابا فرید کشف و کرامات کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے اور نہ ہی ان کے پابند تھے۔

 

 

بابا فرید بہت صاحب فضیلت تھے جب انہوں نے شہرت حاصل کی اور دور دور تک ان کی کرامات کا ذکر ہونے لگا تو بہت سے بادشاہ اور امراء آپ کے معتقد ہوگئے۔ آپ کے کلام میں ایسی تاثیر تھی کہ گائوں کے گائوں آپ کے مرید ہوگئے تھے۔

 

بابا فرید کو شیرینی بہت پسند تھی اور شکر آپ کی پسندیدہ تھی مشہور ہے کہ ایک بار شکر کے بیوپاری گدھوں پر شکر کی بوریاں لادے ہوئے آپ کے سامنے سے گزر رہے تھے۔ آپ نے ان سے شکر کی قلیل مقدار خریدنی چاہی تو انہوں نے بہانہ بناکر شکر نہیں نمک ہے۔ آپ نے مسکرا کر فرمایا ٹھیک ہے نمک ہی ہوگا۔ وہ سوداگر جب منزل مقصود پر پہنچے اور بورے کھولے تو دیکھا سب شکر نمک میں تبدیل ہوچکی تھی۔ پشیمان ہوکر بابا جی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دعا کے طالب ہوئے۔ آپ نے کمال شفقت سے فرمایا شکر ہوجائے گی۔ چنانچہ وہ نمک شکر ہوگیا۔کہا جاتا ہے کہ اس دن سے آپ گنج شکر کے لقب سے مشہور ہوگئے۔

 

 

 

بابا فریدالدین گنج شکرؒ ایک صوفی شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں وہ تمام عنصر موجود ہیں جن کا تعلق اور جڑیں تصوف اور روحانیت سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے انسانی زندگی کے مسائل اور سماجیات کو اپنی شاعری کی بنیاد بنایا ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے اپنے دور میں موجود بہت سی سماجی برائیوں اور رسم و رواج کا بائیکاٹ کیا۔ انہوں نے اپنے پیرو مرشد کے حکم سے اجودھن (پاک پتن) کے ویرانے میں ایک بستی بسائی جو اب پاک پتن کے نام سے مشہور ہے۔ انہوں نے نسل انسانی کی وحدت کے عقیدے کو اختیار کیا۔ یہی وجہ تھی کہ ادنیٰ و اعلیٰ، عالم وجاہل، مفلس و منعم، ہندو اور مسلم، صوفی اور جوگی سب ان کے پاس آتے اور ان سے فیض پاتے تھے۔ ایک دفعہ کسی نے ان کو قینچی تحفے میں پیش کی تو انہوں نے کہا کہ مجھے سوئی اور دھاگہ دو کیونکہ میں کاٹنے کے لیے نہیں بلکہ جوڑنے کے لیے آیا ہوں۔

 

وہ ایک ایسے معاشرے کے بانی تھے جو برداشت، رواداری اور احترام انسانیت کے اصولوں کو ماننے والا تھا۔ وہ بین المذہی تفہیم کو فروغ دینے والے اور تنگ نظری سے بچ کر زندگی کا گُر سکھانے والے تھے۔ وہ عالم بھی تھے، لوگوں کے پیرو مرشد بھی تھے۔ باعمل صوفی بھی اور باشعور شاعر بھی۔ ان کی شاعری میں انسانی دکھ درد کو سمجھنے اور مداوا تلاش کرنے کی مخلصانہ سعی ملتی ہے۔ ان کی تعلیمات کا آغاز خاک سے ہوتا ہے۔ خاکساری سے ہوتا ہے۔ وہ بھٹکے ہوئے لوگوں کو بار بار بلاتے ہیں۔ انہیں رفتگان کی مثالیں دیتے ہیں۔ ایسی مثالیں جو اچانک نیند سے بیدار کردیتی ہیں۔ بہت سے شعار اور کافیاں بھی ان کے ساتھ منسوب ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب بابافرید نے چلۂ معکوس کاٹا اسی دوران ایک کوا آیا اور آپ کے جسم پر چونچیں مارنے لگا آپ نے منع نہیں کیا لیکن جب اس نے آپ کی آنکھ پر چونچ ماری تو آپ نے فرمایا:

 

کاگا کُرنگ ڈھنڈولیا، ہگلا کھایا ماس

ایہہ دونینا مت چھوہیو، پریا دیکھن کی آس

 

اے کوے تو نے میرے بدن کا سارا گوشت نوچ کر کھا لیا ہے میں تم سے منت کرتا ہوں کہ یہ میری دو آنکھیں نہ کھانا کیونکہ مجھے اپنے پیا کو دیکھنے کی آس ہے۔

 

ان کی شاعری میں مواد، لفظ، معنی، زبان اور اسلوب کی وہ گہرائی پائی جاتی ہے جس نے ہر شخص کو متاثر کیا۔ اس تاثر میں مذہب، عقیدہ اور مزاج بھی رکاوٹ نہیں بن سکے۔

 

دیگر چشتی مفکرین کی طرح بابا فریدؒ بھی موسیقی کے شائق تھے۔ وہ فرماتے تھے کہ رحمت باری کا نزول تین مواقع پر ضرور ہوتا ہے۔

 

سماع کے موقع پر

 

درویشوں کے احوال بیان کرنے کے موقع پر

 

عاشقوں کے انوار تجلی کے عالم میں غرق ہوجانے کے موقع پر

 

پنجابی زبان میں سب سے پہلے جس شاعر کا کلام لوگوں تک پہنچا وہ بابا فرید ہی ہیں۔ بابا فریدؒ کے وصال کے 339 سال بعد گرنتھ صاحب کے ذریعے ان کا کلام ہم تک پہنچا ہے۔ یہ ان کی بین المذہبی رواداری کی مثال ہے۔

 

وفات:ـ

 

بابا فریدؒ نے 92 برس کی عمر میں انتقال فرمایا۔ بعض روایات کے مطابق 1268ء میں اور بعض کے مطابق 1280ء میں وفات پائی اور اجودھن میں ہی دفن ہوئے جو آج کل پاک پتن کہلاتا ہے ان کامزار زیارت گاہ خاص و عام ہے۔

 

 

 

بابا فریدؒ کی تعلیمات و شاعری ہمیں اپنی جڑوں کی تلاش اور اجتماعی شخصیت کا شعور حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ان کے افکار و تعلیمات، انسانی فکر و نظر، تہذیب و ثقافت کے فروغ اور اخلاقی پاکیزگی کے آدرش تک رسائی کے لیے نہ صرف راہیں متعین کرتی ہے بلکہ انکشاف ذات اور راہ نجات کے در بھی وا کرتی ہیں۔ جیسا کہ بابا فرید کہتے ہیں کہ مٹی کو برا نہ کہو جب تک آدمی زندہ ہے مٹی پائوں تلے روندی جاتی ہے اور جب آدمی مر جاتا ہے تو وہی مٹی اس کے اوپر رکھی جاتی ہے۔ بابا فریدؒ کے مزار پر آج بھی ہندو، مسلمان اور سکھ عقیدت و احترام سے حاضر ہوتے ہیں کیونکہ انہوںنے اخوت و محبت، ایثار و بھائی چارے کا درس دیا۔ صوفی ازم کے صحیح آئینہ، روشن اور شفاف شیشہ دراصل بابا فریدؒ جیسے صوفیوں کی ذات میں ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اس فقیر کی شان دے کہ زمانہ جس کی مثال دے۔(آمین)

متعلقہ خبریں

Back to top button