تلنگانہ

حیدرآباد کے دھرنا چوک پر سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ، فورم فار ریلیز آف پولیٹیکل پریزنرس کا احتجاج

دھرنا چوک پر سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ، فورم فار ریلیز آف پولیٹیکل پریزنرس کا احتجاج

 

حیدرآباد: 29 اگست (پریس نوٹ) فورم فار ریلیز آف پولیٹیکل پریزنرس تلنگانہ کے زیر اہتمام آج اندرا پارک کے دھرنا چوک پر احتجاجی دھرنا منعقد کیا گیا۔ احتجاج میں مختلف سیاسی، سماجی، انسانی حقوق اور جہدکار تنظیموں سے وابستہ قائدین اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مقررین نے UAPA، POTA، ED اور دیگر قوانین کے تحت گرفتار کئے گئے مبینہ بے قصور سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

 

احتجاج کی صدارت سیول لبرٹیز کے صدر پروفیسر جی لکشمن نے کی، جبکہ کنوینر ہراگوپال نے دھرنے کی نگرانی کی۔ اس موقع پر SDPI تلنگانہ کی جانب سے محترمہ شیبہ مینائی کے علاوہ پروفیسر انور خان، سیف الدین، پروفیسر کودنڈارام، کمیونسٹ پارٹی کے ایم ایل اے سمباسیوا راؤ، مدابھوشی سری دھر، سابق ایم ایل اے گمّدی نرسیّا، کمیونسٹ پارٹی کے سکریٹری جان ویسلے، وینکٹیش راؤ، پروفیسر ناگیشور راؤ، نندیگم کرشناراؤ، محترمہ وی سندھیا، محترمہ ویمالکا، ہیومن رائٹس فورم کے ڈاکٹر تیروپتی اور سینئر کونسل ایڈوکیٹ وی رگھوناتھ سمیت دیگر نے خطاب کیا۔

 

شیبہ مینائی نے اپنی تقریر میں کہا کہ بچوں کو اسکول میں ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کی تعلیم دی جاتی ہے، لیکن جب معاشرے میں طاقت، رشوت اور مذہب یا ذات کے نام پر ناانصافی ہوتی ہے تو لوگوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا نہ صرف جائز بلکہ ہر شہری کا قانونی حق ہے۔

 

انہوں نے الزام عائد کیا کہ UAPA اور POTA جیسے سخت قوانین کے ذریعے عوام کی آواز دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق قانون کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی شخص کو جرم ثابت ہونے تک مجرم نہیں سمجھا جاسکتا، لیکن سخت قوانین کے غلط استعمال سے کئی افراد کو برسوں تک جیل میں رکھا جارہا ہے، جس سے ان کے خاندان بھی متاثر ہورہے ہیں۔

 

شیبہ مینائی نے جیلوں میں بند ان افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں دہشت گردی، ماؤزم یا دیگر الزامات کے تحت طویل عرصہ سے قید رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسے تمام معاملات کا ازسرنو جائزہ لیتے ہوئے بے قصور افراد کو رہا کرنا اور ان کے ساتھ انصاف کرنا چاہئے۔

 

دھرنے سے خطاب کرنے والے دیگر مقررین نے بھی جمہوریت میں اختلافِ رائے، تنقید اور اپوزیشن کی اہمیت پر زور دیا۔ مقررین نے خاص طور پر عمر خالد سمیت ایسے کئی افراد کے نام لئے جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ انہیں طویل عرصہ سے جیل میں رکھا گیا ہے اور بعض معاملات میں طویل عرصہ گزرنے کے باوجود قانونی کارروائی مکمل نہیں ہوئی۔

 

احتجاج کے دوران مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیاسی بنیادوں پر گرفتار کئے گئے تمام افراد کے مقدمات کا منصفانہ جائزہ لیا جائے، غیر ضروری حراست ختم کی جائے اور بے قصور افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

Oplus_131072

متعلقہ خبریں

Back to top button