ایس آئی آر دعووں اور اعتراضات قبول کرنے کی مدت میں توسیع کی جائے۔ چیف منسٹر تلنگانہ کا الیکشن کمیشن کو مکتوب

حیدرآباد: تلنگانہ میں جاری ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی کے تحت دعووں اور اعتراضات داخل کرنے کی مقررہ مدت جلد ختم ہونے والی ہے۔
اس مدت میں مزید توسیع کا مطالبہ کرتے ہوئے تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے مرکزی الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو خط لکھا ہے۔چیف منسٹر نے مطالبہ کیا کہ دعووں اور اعتراضات وصول کرنے کی مدت میں مزید چار ہفتوں کی توسیع کی جائے۔
موجودہ شیڈول کے مطابق یہ مدت 16 ستمبر کو ختم ہونے والی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور سیاسی جماعتوں کو مزید وقت فراہم کرنے کے لیے اس مدت میں توسیع ضروری ہے۔اپنے خط میں ریونت ریڈی نے بتایا کہ 73.39 لاکھ اندراجات ASDD زمرے میں ہیں۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ عارضی طور پر دوسری جگہ منتقل ہونے والے افراد کو بھی مستقل طور پر منتقل شدہ افراد سمجھا جا سکتا ہے۔چیف منسٹر نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ووٹرس کو نئے پتے کے ساتھ دوبارہ رجسٹریشن کرانے میں مدد فراہم کی جائے۔
اس کے علاوہ نوٹسیس کا جواب دینے کے لیے ووٹرس کو مناسب وقت دیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اہل ووٹرزس کے نام ووٹر لسٹ سے حذف نہ ہوں۔انہوں نے ERO سطح پر عملے کی تعداد میں مزید اضافہ کرنے کی بھی درخواست کی۔
ریونت ریڈی نے خط میں کہا کہ ریاست میں مستقبل قریب میں کوئی انتخابات نہیں ہیں اس لیے ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے عمل کو زیادہ جامع اور درست طریقے سے مکمل کرنے کے لیے یہ اضافی وقت انتہائی مفید ثابت ہوگا۔
چیف منسٹر نے واضح کیا کہ مرکزی الیکشن کمیشن کی جانب سے شروع کیے گئے ایس آئی آر پروگرام میں تلنگانہ حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔



