حیدرآباد میں 8 ماہ تک پانی کا بحران، جنوری سے ستمبر تک قلت کا انتباہ

حیدرآباد: شہر حیدراباد میں آئندہ 8 ماہ تک پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ حیدرآباد میٹرو واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کے ایم ڈی اشوک ریڈی نے خبردار کیا کہ منجیرہ اور سنگور سے پانی کی سربراہی میں یومیہ 100 ملین گیلن کی کمی متوقع ہے، جس کے باعث جنوری سے ستمبر تک ان دونوں ذخائر کے بغیر شہر کی آبی ضروریات پوری کرنے کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پانی کی قلت پر قابو پانے کے لئے گوداوری سے یومیہ 100 ملین گیلن پانی سربراہ کیا جارہا ہے، جبکہ کرشنا سے 10 تا 15 ملین گیلن اور عثمان ساگر سے 5 ملین گیلن پانی حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ ان اقدامات کے باوجود پانی کی قلت کا 20 تا 40 فیصد حصہ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
اشوک ریڈی کے مطابق پٹن چیرو سے نارسنگی تک تقریباً 3 لاکھ پانی کے کنکشن موجود ہیں اور ان علاقوں میں قلت زیادہ محسوس کی جاسکتی ہے۔ شہر کے 7 اسمبلی حلقوں میں پانی کا مسئلہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے،
جبکہ شیرلنگم پلی میں پانی کی قلت 80 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیرزمین پانی کی سطح مسلسل گرنے اور آبی ذخائر میں پانی کم ہونے کے باعث صورتحال مزید سنگین ہوتی جارہی ہے۔




