مکتھل میں سابق ایم ایل اے رام موہن ریڈی کی کانگریس حکومت پر شدید تنقید، ’’1000 دن میں وعدے پورے نہیں ہوئے‘‘

مکتھل 08/ستمبر ( اردو لیکس)مکتھل سابق ایم ایل اے چٹم رام موہن ریڈی نے کانگریس حکومت پر تنقید کی کہ وہ اپنے 1000 دنوں کے اقتدار کے دوران عوام سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ نہ پہنا کر عوام کو دھوکہ دے رہی ہے
۔نارائن پیٹ ضلع کے مکتھل میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتہ سے کانگریس حکومت کے 1000 دنوں کے دوران عوام کو جو نقصانات ہوئے ہیں وہ عوام کے سامنے آٸےہیں اور وہ عوام کو آگاہ کررہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت کی طرف سے اعلان کردہ چھ ضمانتوں پر پوری طرح عمل نہیں کیا گیا ہے
۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں، عمارتوں اور دیگر چیزوں کے ترقیاتی کام سنگ بنیاد تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ خواتین کو مفت بس سفر کی سہولت فراہم کی گئی ہے لیکن اس کے مطابق بسوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے خواتین کو بسوں میں مسلسل مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ خواتین کے لٸے اسکوٹی اور 2000 روپے کی مالی امداد جیسے وعدوں کا کیا ہوا؟ رام موہن ریڈی نے الزام لگایا کہ حکومت جس نے زراعت کو 24 گھنٹے بلا تعطل بجلی فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، اب اس وعدے کو نظر انداز کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسان بجلی کی بلا تعطل فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے گزشتہ تین دنوں سے کئی مواضعات میں احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو فوری طور پر 24 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دھان کی فصل کے لیے 500 روپٸے بونس اور قرضہ معافی مکمل نہیں ہوسکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بے روزگاروں کو نوکریاں دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جاب کیلنڈر کا اعلان کرنے کے وعدے کے باوجود نوکریاں نہیں دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کے سی آر حکومت کے دوران لاکھوں لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کئے گئے۔
نارائن پیٹ ضلع میں اساتذہ کی 133 جاٸدادیں خالی ہیں، اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان جاٸدادوں کو فوری طور پر پُر کیا جائے اور طلباء کو بہتر تعلیم فراہم کی جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسکول کے طلباء کو وقت پر یونیفارم نہیں مل رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گاؤں اور قصبوں میں صفائی ستھرائی کا کام ٹھیک طریقے سے نہیں چل رہا ہے، اور حکومت نرسریوں اور گاؤں پنچایت دفاتر کی حالت پر توجہ نہیں دے رہی ہے
۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کے سی آر حکومت کے دوران مکتھل حلقہ میں 41 گرام پنچایتیں اور تین بلدیات تشکیل دی گئیں۔ انہوں نے حکومت پر کلیانہ لکشمی اسکیم کو نظر انداز کرنے کا بھی الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے آتماکور اور امراچنتا منڈلوں میں منظور شدہ چیکس کو بھی واپس لے لیا ہے
۔رام موہن ریڈی نے کہا کہ خواتین ایم ایل ایز اور سابق وزراء کے ساتھ برا سلوک کرنا درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو ترجیح دینے والی حکومت کو ان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ عوام اب چاہتے ہیں کہ کے سی آر دوبارہ حکومت کریں۔



