کاماریڈی کانگریس قایدین میں مفاہمت، گاندھی بھون میں محمدعلی شبیر اور چندر شیکھر ریڈی کے درمیان صلح

کاماریڈی کانگریس قایدین میں مفاہمت، گاندھی بھون میں محمدعلی شبیر اور چندر شیکھر ریڈی کے درمیان صلح
حیدرآباد، 21 جون (سیدکوثرعلی کی رپورٹ)کاماریڈی کانگریس میں گزشتہ چند دنوں سے جاری اندرونی اختلافات کا اختتام گاندھی بھون میں منعقدہ ڈسپلنری کمیٹی کے اجلاس میں ہو گیا۔ حکومت کے مشیر شبیر علی اور ٹی پی سی سی کے جنرل سکریٹری گڈم چندر شیکھر ریڈی نے باہمی مفاہمت پر اتفاق کرتے ہوئے پارٹی کی مضبوطی کے لیے مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔
طویل مشاورت کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے پر عائد الزامات کو ختم کرنے اور آئندہ پارٹی کے مفاد کو ترجیح دینے کا عہد کیا۔ انہوں نے ڈسپلنری کمیٹی کے روبرو یقین دہانی کرائی کہ اختلافات کو پس پشت ڈال کر تنظیمی استحکام کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متنازع آڈیو ریکارڈنگ کے بارے میں شبیر علی نے کمیٹی کو وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اس میں سنائی دینے والی آواز ان کی نہیں ہے اور اس آڈیو سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق سیاسی طور پر ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی نیت سے یہ آڈیو تیار کر کے پھیلائی گئی۔
ڈسپلنری کمیٹی کے چیئرمین ملو روی نے کہا کہ شبیر علی کے بعض سابقہ بیانات پر آئندہ اجلاس میں تفصیلی غور کیا جائے گا، تاہم اس وقت دونوں فریقوں کے درمیان مفاہمت اور پارٹی اتحاد کو برقرار رکھنا زیادہ اہم ہے۔
کمیٹی نے دونوں رہنماؤں کو ہدایت دی کہ وہ ایسے عوامی بیانات یا تنقید سے گریز کریں جن سے پارٹی کی ساکھ متاثر ہو۔ کمیٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ حلقے سے متعلق مسائل کو میڈیا یا عوامی پلیٹ فارم پر لانے کے بجائے اندرونی طور پر پارٹی ہائی کمان کے سامنے پیش کیا جائے۔ ملو روی نے خبردار کیا کہ مقامی تنازعات کے باعث پولیس اسٹیشنوں تک معاملات پہنچنا پارٹی کے وقار کے لیے نقصان دہ ہے اور آئندہ ایسی صورتحال سے ہر ممکن اجتناب کیا جانا چاہیے



