ریونت ریڈی حکومت کی ناکامی بے نقاب، ریاست میں ہر سال 4 ہزارشیر خوار بچوں کی اموات پر کویتا برہم

ریونت ریڈی حکومت کی ناکامی بے نقاب، ریاست میں ہر سال 4 ہزارشیر خوار بچوں کی اموات پر کویتا برہم
تعلیم و صحت کی بدحالی کے خلاف تلنگانہ رکشنا سینا کی فیصلہ کن جدوجہد کا اعلان
عوام کی جانوں سے بڑھ کر کچھ نہیں، حکومت چلانا ممکن نہیں تو اقتدار سے دستبردار ہوجائیں: کلواکنٹلہ کویتا
حیدرآباد: تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کلواکنٹلہ کویتا نے عادل آباد ریمس (RIMS) میں پیش آئے المناک واقعہ پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی بے حسی اور لاپروائی کے باعث معصوم بچوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ ریاست میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کی صورتحال فوری اصلاح کی متقاضی ہے اور تلنگانہ رکشنا سینا ان دونوں شعبوں میں حکومت کے خلاف جدوجہد کا اعلان کرتی ہے۔
کویتا نے کہا کہ عادل آباد کے واقعہ کے بعد سرکاری اسپتالوں کی صورتحال سے متعلق حاصل ہونے والے اعداد و شمار نے انہیں شدید پریشان کیا۔ ان کے مطابق 2020-21 میں تقریباً 6 ہزار، 2022-23 میں 4,933 اور 2024-25 میں 3,853 شیر خوار بچوں کی اموات ہوئی ہیں۔ حیدرآباد میں بھی گزشتہ سال 1,046 بچوں کی موت کی اطلاعات سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ریاست کے سرکاری طبی نظام کی سنگین صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے صحت کے شعبے کے لیے بجٹ کا 10 فیصد مختص کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن تقریباً 5 فیصد ہی مختص کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال صحت کے لیے 13,192 کروڑ روپے مختص کیے گئے، جن میں سے صرف 9,242 کروڑ روپے خرچ ہوئے، جبکہ تقریباً 3 ہزار کروڑ روپے استعمال ہی نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب مختص رقم ہی خرچ نہیں کی جا رہی تو عوام کو بہتر طبی سہولیات کیسے فراہم کی جائیں گی۔ کویتا نے کہا کہ NIMS میں بیڈس کے لیے انتظار، سرجری کے لیے کئی ماہ کی تاخیر اور نیلوفر اسپتال میں گنجائش سے کہیں زیادہ مریضوں کا داخل ہونا ریاستی طبی نظام کی سنگین صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ضلع کلکٹر سرکاری اسپتالوں اور ہاسٹلوں کا باقاعدہ معائنہ کیوں نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت انتظامیہ چلانے سے قاصر ہے تو اسے اقتدار سے الگ ہوجانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ریمس واقعہ کے بعد وزیر صحت عادل آباد پہنچے، لیکن اس سے قبل طویل عرصے تک ضلع کا دورہ نہ کرنا بھی تشویشناک ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تلنگانہ رکشنا سینا آئندہ ہر ضلع کے سرکاری اسپتال کا دورہ کرے گی اور عوام و نوجوانوں سے اپیل کی کہ اپنے علاقوں کے اسپتالوں کی صورتحال کی تصاویر اور تفصیلات سامنے لائیں تاکہ خامیوں کو اجاگر کرکے اصلاح کے لیے جدوجہد کی جاسکے۔ کویتا نے سرکاری اسکولوں کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کئی اسکولوں میں لڑکیوں کے لیے بنیادی سہولیات اور بیت الخلاء تک دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ ایسے اسکولوں کی نشاندہی کریں اور جہاں ضرورت ہوہم ہماری جانب سے بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے حکومت کے خلاف جنگ کا اعلان کیا جا رہا ہے اور عوام کو اس جدوجہد میں شامل ہونا چاہیے۔کویتا نے اپنی جائیداد سے متعلق الزامات پر بھی ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے فارم ہاؤس میں ایک گز زمین بھی قابض یا FTL زمین پر نہیں ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت اپنی انتظامی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے مختلف معاملات کو سیاسی رخ دے رہی ہےاور SIT تحقیقات کے نام پر کارروائی کی بات کی جاتی ہے، لیکن عملی نتیجہ سامنے نہیں آتا۔کویتا نے بتایاکہ خیرت آباد ضمنی انتخاب میں تلنگانہ رکشنا سینا یقینی طور پر مقابلہ کرے گی۔انہوں نے کہا کہ SIR کے معاملے میں بھی شدید ابہام پایا جاتا ہے اور معمولی کلریکل غلطیوں کی بنیاد پر ووٹ حذف کرنا شہریوں کے آئینی حق کو متاثر کرسکتا ہے۔ کویتا نے آبپاشی اور پینے کے پانی سے متعلق مسائل پر بھی جلد عملی لائحہ عمل کا اعلان کرنے کی بات کہی۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ سری سیلم جاکر نیرلا متاثرین کے معاملے میں انصاف کے لیے کیے گئے اقدامات کی وضاحت کریں۔
کویتا نے واضح کیا کہ عوامی مسائل کو نظرانداز کرنے کی قیمت حکومت کو چکانی پڑے گی اور تلنگانہ رکشنا سینا تعلیم، صحت اور عوامی حقوق کے معاملات پر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔



