آرمور اسکول میں اردو کے مسئلہ پر حملے کے ملزم کی عدم گرفتاری کے خلاف مسلم تنظیموں کا احتجاج، فوری کارروائی کا مطالبہ
آرمور: تلنگانہ کے آرمور کے بھارت چندرا اسکول میں اردو پڑھانے کے مسئلہ پر بی جے پی کے مقامی لیڈر کی جانب سے پرنسپل عامر خان پر مبینہ حملے کے معاملے میں ملزم کی عدم گرفتاری کے خلاف آرمور میں مسلم تنظیموں، مجلس اتحاد المسلمین، جمعیت علماء ہند (ارشد مدنی) اور مختلف سماجی و سیاسی قائدین نے زبردست احتجاج کیا۔
احتجاجی قائدین کا الزام ہے کہ بی جے پی کے مقامی رہنما منڈولا بالو اور ان کے حامیوں نے اسکول میں گھس کر عامر خان کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا، صرف اس وجہ سے کہ اسکول میں اردو کی تدریس جاری تھی۔ واقعہ کے بعد آرمور پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی، تاہم مظاہرین کے مطابق زخمی عامر خان کو پولیس نے علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کے بجائے دوپہر سے رات 10 بجے تک پولیس اسٹیشن میں بٹھائے رکھا، جبکہ مرکزی ملزم اب تک گرفتار نہیں کیا گیا اور مبینہ طور پر کھلے عام گھوم رہا ہے۔
۔اس غیر منصفانہ رویے اور پولیس کی تاخیر کے خلاف آج مرکزی کمیٹی آرمور اور جمعیت علماء (ارشد مدنی ) ،کے صدر حافظ شیخ ابراہیم صدر جمیعت علماءاور نظام آباد و آرمور مجلسی قائدین، آرمور کے مسلم سیاسی و سماجی مسلم نوجوانوں جانب سے ایک بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
احتجاج کے دوران پولیس اسٹیشن آرمور پہنچ کر انچارج اے سی پی مستان کو ایک یادداشت (میمورنڈم) پیش کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ حملہ آور کو فوری طور پر گرفتار کرکے اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ملزم کو جلد گرفتار نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں احتجاج کو مزید وسیع کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ انتظامیہ پر عائد ہوگی۔



