تلنگانہ

عوامی خدمت ہی ہمارا اولین مقصد 2 جولائی کو  اراضی جدوجہد کو کامیاب بنانے کی اپیل : کویتا

عوامی خدمت ہی ہمارا اولین مقصد

2 جولائی کو  اراضی جدوجہد کو کامیاب بنانے کی اپیل

*تلنگانہ کے عوام کے حق کی حفاظت ہمارا مشن، اسی مقصد کے لیے ٹی آر ایس کا قیام*

*تلنگانہ کے مقامی حقوق پر سازشیں ناقابل قبول: کلواکنٹلہ کویتا کا فلیگ فیسٹیول تقریب سے خطاب*

 

حیدرآباد: تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کلواکنٹلہ کویتا نے نیکلیس روڈ عیدگاہ میں واقع چھلے مبارک پر حاضری دی، جہاں ذمہ داران کی جانب سے ٹی آر ایس پارٹی کی کامیابی کے لیے خصوصی دعا کا اہتمام کیا گیا۔ بعد ازاں کویتا نے راج بھون کے سامنے واقع ریلوے گیٹ سے ایم ایس مقطع تک پیدل مارچ کیا اور راستے میں مقامی عوام سے ملاقات کرتے ہوئے ان کے مسائل سے واقفیت حاصل کی

 

۔ اس دوران عوام کی جانب سے ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ بعد میں انہوں نے ایم ایس مقطع میں پارٹی پرچم لہرایا۔ سر کاری اسکول میں طلبہ میں کتابیں بھی تقسیم کی گئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کلواکنٹلہ کویتا نے کارکنوں اور عوام سے اپیل کی کہ 2 جولائی کو اپل بھگایت میں تلنگانہ تحریک کے کارکنوں کے لیے گھریلو پلاٹس کے حصول کی خاطر منعقد ہونے والی اراضی جدوجہد کو کامیاب بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل اور حقوق کے حصول کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے اقتدار میں آنے سے قبل تلنگانہ کے تحریک کاروں کو 250 گز کے مکاناتی پلاٹس دینے کا وعدہ کیا تھا، مگر ڈھائی سال گزرنے کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ہر تحریک کار کو زمین دلوانا ہی ان کی جدوجہد کا مقصد ہے۔

 

کویتا نے کہا کہ پارٹی کا پرچم لہرانے کے بعد اب خدمت اور محنت کے لیے سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ عوامی خدمت ہی اصل مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نئی ضرور ہے مگر وہ خود عوام کی بیٹی ہیں اور عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایم ایس مقطع کے عوام کئی بنیادی مسائل جیسے پانی، نکاسی اور دیگر سہولتوں کی کمی سے پریشان ہیں، جن کے حل کے لیے حکومت سے موثر نمائندگی کی جائے گی۔

 

انہوں نے تلنگانہ کے مقامی حقوق کے مسئلے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی مقامی حیثیت کے معاملے پر دوبارہ سازشیں شروع ہو گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصول کے مطابق پہلی سے ساتویں جماعت تک تلنگانہ میں تعلیم حاصل کرنے والوں کو ہی مقامی تسلیم کیا جانا چاہیے، مگر عدالت کے حالیہ فیصلے نے اس میں ابہام پیدا کیا ہے۔ کویتا نے اعلان کیا کہ اس مسئلے پر قانونی جدوجہد کی جائے گی اور تلنگانہ کے نوجوانوں کے روزگار کے حقوق کا ہر حال میں تحفظ کیا جائے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ تلنگانہ رکشنا سینا کا قیام ہی ریاست اور اس کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے عمل میں آیا ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کی پسپائی اختیار نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے آئندہ جی ایچ ایم سی انتخابات میں پارٹی کی مضبوط کارکردگی کا یقین ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی عوامی مسائل کے حل کے لیے میدان میں اترے گی اور خیرت آباد اسمبلی نشست بھی جیتنے کا عزم رکھتی ہے۔اس موقع پر "جے ٹی آر ایس” اور "جے کویتا اککا” کے نعروں سے فضا گونجتی رہی جبکہ پروگرام میں مقامی رہنما اور کارکنان کی بڑی تعداد شریک تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button