حیدراباد میں ایس آئی او تلنگانہ کا نیٹ پرچہ لیک کے خلاف احتجاج، بدعنوانی اور غفلت کا الزام، این ٹی اے کو ختم کرنے کا مطالبہ

اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او) تلنگانہ نے چہارشنبہ کو ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر مجسمہ، لبرٹی سرکل، ٹینک بنڈ، حیدرآباد پر ایک احتجاجی اجتماع منعقد کیا، جس میں نیٹ امتحانات کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک، بدعنوانی اور انتظامی غفلت کی شدید مذمت کی گئی۔
اس احتجاج میں طلبہ، سماجی کارکنان اور فکر مند شہریوں نے شرکت کی، جہاں نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے خلاف نعرے بلند کیے گئے اور مرکزی حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کیا گیا۔
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی صدر محمد فراز احمد نے کہا کہ ملک بھر کے 22 لاکھ سے زائد طلبہ این ٹی اے کے تحت منعقد ہونے والے قومی سطح کے امتحانات میں مسلسل ناکامیوں، بدعنوانیوں اور تنازعات کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتظامی غفلت، شفافیت کی کمی اور امتحانات کے وقار کو برقرار رکھنے میں ناکامی کی وجہ سے طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے فوری طور پر مرکزی وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا، اور الزام عائد کیا کہ یہ ایجنسی بارہا منصفانہ، شفاف اور قابلِ اعتماد امتحانات منعقد کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلسل پرچہ لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں نے طلبہ اور والدین کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں برسوں محنت کرنے والے امیدوار ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو رہے ہیں۔
تنظیم نے طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایک شفاف، جوابدہ، بدعنوانی سے پاک اور طلبہ دوست امتحانی نظام قائم کیا جائے۔
**احتجاج کے دوران پیش کیے گئے اہم مطالبات:**
• امتحانی بے ضابطگیوں، بدعنوانی اور پرچہ لیک میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی
• مرکزی وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ
• نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کو ختم کیا جائے
• منصفانہ، شفاف، جوابدہ اور طلبہ دوست امتحانی نظام کو یقینی بنایا جائے



