نیشنل

شاشوت منچ دہلی اور کاروان محبت ہندی اردو آل انڈیا ٹرسٹ اور انجمن فروغ ادب ودیشہ کے زیر اہتمام مشاعرہ/ کوی سمیلن

نئی دہلی ۔ میری آنکھوں نے یہاں ایسے بھی منظر دیکھے ۔

تشنگی لب پہ رہی ،پاس سمندر دیکھے ۔۔

انگلیاں مجھ پہ اٹھانے کا تجھے حق ہے تبھی ،

جھانک کر پہلے گریباں کے تو اندر دیکھے ۔۔۔۔۔۔۔”چاند”

گزشتہ دنوں شاشوت منچ دہلی اور کاروان محبت ہندی اردو آل انڈیا ٹرسٹ اور انجمن فروغ ادب ودیشہ کی جانب سے ایک آل انڈیا مشاعرہ/ کوی سمیلن ، عید ملن اور تقسیم اعزازات، پروگرام جے کامپلیکس بڑی بزریہ ودیشہ میں منعقد کیا گیا ، جس کی صدارت شہر کے مشہور شاعر جناب نثار مولوی صاحب نے کی اور نظامت کے فرائض جناب وسیم جھنجھانوی صاحب مظفر نگر نے ادا کیئے ، اس مشاعرے کے صاحب جشن بنگلورو کرناٹک سے آئے جناب الحاج حافظ بابا جی صاحب رہے ، اس مشاعرے میں مہمان خصوصی سابق ایم ایل اے شہر کے ہر دل عزیز جناب ششانک بھارگو صاحب ، شہر کے مشہور شخصیت جناب گووند دیولیا جی ، کانگریس پارٹی کے صدر جناب موہت رگھوونشی جی ، جناب نریندر سونی جی ، جناب سریش موتیانی جی مشاعرے میں رونق افروز رہے

 

اور اس مشاعرے میں انجمن فروغ ادب کے صدر چاند خاں "چاند” کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے مشہور شاعر اور کوییوں نے اپنی اپنی غزلوں اور گیتوں سے سامعین کو محظوظ کیا اور خوب واہ واہی لوٹی اور تالیاں بٹوری اس مشاعرے میں دہلی کے جناب منوج شاشوت صاحب، ٹانڈا یو پی کے جناب ارشد جمال صاحب، پریاگ راج کے اختر الہٰ آبادی صاحب، وسیم جھنجھانوی صاحب مظفر نگر، اشوک گلاوٹھی صاحب بلند شہر، ابھینیش ساگر منگاولی، محترمہ صبیحہ صدف صاحبہ رائسین ، محترمہ رخسانہ زیبا بھوپال، جناب نواب ممتاز احمد خان بھوپال کے علاوہ مقامی شاعروں میں جناب نثار مالوی صاحب ،گووردھن راجوریا صاحب، سریندر شری واستو ، سنتوش شرما ساگر، سنجے چترویدی ، تنظیم کے سیکریٹری ادے ڈھولی

 

حبیب ناداں سرونجی ، اشوک کھرے صاحب ، ستیندر دھاکڑ ، شاہد علی شاہد ، نظیر نوری، ہرگووند میتھل جی ، محمود کامل صاحب چندو قریشی ،اوصاف احمد اوصاف اور ، رئیس شیخ، ہر گوبند میتھل، نیرج ریکوار ، سنتوش نامدیو جی، اور بھی بہت سے شعراء اور کوییوں نے اپنے اپنے کلام پیش کیئے ۔

 

مشاعرے میں دہلی کے منوج شاشوت نے پڑھا کی ،

تم اگلی صف میں بیٹھے ہو ، میں بھی ہوں اک کونے میں ،

وقت نہیں لگتا ہے صاحب ادلا بدلی ہونے میں ۔۔۔

 

ٹانڈا یو پی کے ارشد جمال نے پڑھا کی ۔

کچھ بھی کہیئے مگر غضب سمجھا ۔حسب معمول اس نے سب سمجھا ۔

پہلے سمجھا نہیں وہ ہرجائ

جب لگا تیر دل پہ تب سمجھا ۔

 

پریاگ راج کے اختر الہٰ آبادی نے پڑھا کی ۔

لگا کر داغ وہ دامن پہ میرے

مجھے بدنام کرنا چاہتا ہے ۔

میری پرواز سے ڈرتا بہت ہے

وہ میرے پر کترنا چاہتا ٹ۔۔

 

مظفر نگر کے وسیم جھنجھانوی نے پڑھا کی ۔

تہذیب مرے ہند کی یہ گنگو جمن ہے

یہ میرا وطن میرا وطن میرا وطن ہے ۔

 

ودیشہ کے معروف شاعر نثار مالوی صاحب نے پڑھا کی ۔

محبت سے دلوں کو جیتنا آسان ہوتا ہے

سیاست کی لڑائی میں بڑا نقصان ہوتا ہے ۔

زمینوں کو فتح کرنا بہت آسان ہے لیکن ۔

دلوں کو جو فتح کرلے وہی سلطان ہوتا ہے ۔

 

 

تنظیم کے صدر چاند خاں "چاند” نے پڑھا کی ۔

میری آنکھوں نے یہاں ایسے بھی منظر دیکھے ۔

تشنگی لب پہ رہی ، پاس سمندر دیکھے ۔

انگلیاں مجھ پہ اٹھانے کا تجھے حق ہے تبھی ،

جھانک کر پہلے گریباں کے تو اندر دیکھے ۔

 

 

بلند شہر یو پی کے اشلوک گلاوٹھی نے پڑھا کی ۔

آدمی کو ہر قدم انسان ہونا چاہیے ۔

سب کے دل میں پیارا ہندوستان ہونا چاہیے ۔

 

رائسین کی محترمہ صبیحہ صدف نے پڑھا کی ۔

وہ سامنے ہو کر بھی حجابوں میں نہیں ہے۔

اور میری نظر دیکھنے والوں میں نہیں ہے۔

اے کاتب تقدیر یہ کیسا تیرا انصاف،

جو دل میں ہے ہاتھوں کی لکیروں میں نہیں ہے۔

 

بھوپال کی محترمہ رخسانہ زیبا نے پڑھا کی ۔

جو اپنے آپ کو کہتے ہیں باغباں لوگوں

وہی تو آگ چمن میں لگائے بیٹھے ہیں

ہمارا پیار شہنشاہیت کے بل پہ نہیں

ہم اپنا تاج محل خود بنائے بیٹھے ہیں۔

 

منگاؤلی کے ابھینیش ساگر نے پڑھا کی ۔

میری دعا کے شجر پہ ثمر نہیں آیا

صدائیں دیتا رہا وہ مگر نہیں آیا

بچھڑ کے تجھ سے نہ جانے کہاں ہوا ہوں غم

زمانہ ہو گیا خود کو نظر نہیں آیا‌۔

 

بھوپال کے نواب ممتاز احمد خان نے پڑھا کی ۔

 

سنتوش شرما ساگر نے پڑھا کی ۔

کبھی کچا بناتی تھی کبھی پکا بناتی تھی

مگر ماں جو بناتی تھی بہت اچھا بناتی تھی۔

 

ادے ڈھولی نے پڑھا کی۔

غرق ہوتی ہوئی کشتی کو بچانے والے اب کہاں ملتے ہیں گرتوں کو اٹھانے والے

بات کس دین کی کرتے ہیں خدا ہی جانے

دست معصوم میں ہتھیار تھمانے والے۔

 

شاہد علی شاہد نے پڑھا کی ،

ننے ننے پاؤ تھے ، دور بہت تھا گاؤ

بس ندیا میں ڈال دی ،کاغذ والی ناؤ

 

نظیر نوری نے پڑھا کی ۔

وقت اتنا تو مجھے دو کے بات ہو جائے

تمہاری زلف کے سائے میں رات ہو جائے

 

ان کے علاوہ اور بھی کئی کوییوں اور شاعروں نے اپنے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا اور خوب تالیاں بٹوری اور واہ واہی لوٹی دیر رات تک چلے اس مشاعرے میں شہر کے معتبر سامعین اور ادیبوں کے ساتھ ساتھ سینکڑوں کی تعداد سامعینوں کی حاضری رہی اور آخر میں تنظیم کے سیکریٹری ادے ڈھولی نے سبھی حاضرین محفل کا شکریہ ادا کیا ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button