تلنگانہ

پرگی انڈسٹریل کاریڈور کے لئے کسانوں کی زمینات کو زبردستی حاصل کرنے کے خلاف دھرنا دیتے بوئے کویتا گرفتار

پرگی انڈسٹریل کاریڈور کے لئے کسانوں کی زمینات کو زبردستی حاصل کرنے کی شدید مذمت

وقار آباد میں کے کویتا اور وشاردھن مہاراج کا کسانوں کے ہمراہ چلچلاتی دھوپ میں دھرنا

پولیس کے سخت گیر رویہ پر برہمی کا اظہار۔ کانگریس کو جلا کر راکھ کر دینے پر بھی یہ گناہ معاف نہیں ہوگا

تلنگانہ میں آئندہ دس یوم میں نئی سیاسی جماعت کا قیام۔ کسانوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے جدوجہد کا عزم

 

تلنگانہ کے پرگی انڈسٹریل کاریڈور کے لئے کسانوں کی زمینوں کوزبردستی حاصل کئے جانے کے خلاف تلنگانہ جاگروتی کی صدر کویتا دھرنا دیتے بوئے گرفتار ہوگیں.  صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا، دھرم سماج پارٹی کے صدر وشاردھن مہاراج نےکسانوں کے ہمراہ وقارآباد آر ڈی او دفتر کے روبرو چلچلاتی دھوپ میں دھرنا دیا۔احتجاج کے دوران پولیس نے نامناسب طورپر سخت گیر رویہ اختیار کیا جس پر کویتا اور وشاردھن کی پولیس کے ساتھ بحث و تکرارہوئی۔ اس دوران پولیس نے کویتا کو زبردستی گرفتار کرتے ہوئے وہاں سے دوسری جگہ منتقل کردیا.

 

مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ صنعتوں کے نام پر چھوٹے اور متوسط درجے کے کسانوں کی زمینیں چھینی جا رہی ہیں۔کویتا نے اپنے خطاب میں کہا کہ پرگی میں صنعتی منصوبوں کے لئے کسانوں کی اراضیات زبردستی لی جا رہی ہیں۔ کلاپور، راپول، بھٹلہ چندارم سمیت کئی دیہاتوں میں کسانوں کی اراضی پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دیہاتوں میں مکمل زمین حاصل کی جا رہی ہے جس کے باعث کسانوں کے پاس کوئی متبادل ذریعہ باقی نہیں رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کسانوں کی تکلیف سے ریاست بھر کے عوام کو واقف کروانے کے لئے وقارآباد میں یہ احتجاج کیا جا رہا ہے

 

۔ انہوں نے بتایا کہ ایک جانب وقارآباد میں کسان شدید گرمی میں دھرنا دے رہے ہیں تو دوسری جانب نظام آباد میں ہلدی کے کسان امدادی قیمت کے لئے احتجاج کر رہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست میں کہیں بھی کسان خوشحال نہیں ہیں۔کویتا نے کہا کہ کچھ کسانوں کو امدادی قیمت نہیں مل رہی ہے کچھ کے قرضے معاف نہیں ہوئے اور کئی مقامات پر یوریا کی قلت ہے، جس کی وجہ سے کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں اور یہ صورتحال کانگریس حکومت کی پیدا کردہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت چھوٹے کسانوں کی زمینیں چھین کر ان پر مزید ظلم کر رہی ہے

 

۔انہوں نے کہا کہ ان زمینوں کو برسوں پہلے حکومت نے ہی کسانوں کو دیا تھا اور اب انہیں واپس لینا کسانوں کے منہ سے نوالہ چھیننے کے مترادف ہے۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ کانگریس کو جلا کر راکھ کر دینے پربھی یہ گناہ معاف نہیں ہوگا۔کویتا نے کہا کہ یہاں تقریباً 1200 ایکڑ زمین حاصل کی جا رہی ہے، جس میں قریب 1000 ایکڑ اسائنڈ زمینیں ہیں جبکہ باقی 200 سے زائد ایکڑ بھی ایس سی، ایس ٹی اور بی سی کسانوں کی ملکیت ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی حیدرآباد میں موسیٰ ندی کی صفائی کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف اسی موسیٰ کے کنارے فیکٹریاں قائم کر کے آلودگی کو بڑھا رہے ہیں۔

 

انہوں نے سوال کیا کہ ان صنعتوں میں مقامی لوگوں کو روزگار بھی فراہم نہیں کیا جا رہا ہے۔کویتا نے کہا کہ کانگریس کی تین سالہ حکومت مکمل طور پر دھوکہ دہی پر مبنی ہے، جہاں کسانوں کو نہ رعیتو بھروسہ ملا، نہ کرایہ دار کسانوں اور مزدوروں کو وعدہ کے مطابق مالی تعاون دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے وعدے جھوٹے ثابت ہوئے اور کوئی بھی وعدہ پر عمل نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بی آر ایس حکومت میں کسان “توے” پر تھے تو اب “چولہے” میں گر چکے ہیں، یعنی ان کی حالت پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو چکی ہے۔کویتا نے اعلان کیا کہ آئندہ دس دنوں میں اس خطے میں ایک نئی علاقائی سیاسی جماعت قائم ہوگی اور اس کے قیام کے بعد کسانوں کے حق میں مزید شدت کے ساتھ تحریک چلائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ جہاں کہیں بھی کسانوں کی زمینیں چھینی جائیں گی، وہاں تلنگانہ جاگروتی اور دھرم سماج پارٹی ان کے ساتھ کھڑی ہوگی اور جدوجہد جاری رکھے گی۔

کویتا نے کہا کہ مسائل کا حل صرف متحد ہو کر جدوجہد کرنے میں ہے اور تلنگانہ ریاست بھی اسی طرح کی تحریک کے ذریعہ حاصل کی گئی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button