ایران کے ساتھ مذاکرات،امریکی وفد پاکستان جائے گا: ٹرمپ

نئی دہلی: ایران کے ساتھ جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایک بار پھر بڑا بیان دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ بات چیت کے لیے امریکی نمائندے پاکستان جائیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے
کہا کہ امریکی مذاکرات کار پیر کو پاکستان میں ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے دوبارہ بات چیت شروع کریں گے۔ انہوں نے ایک بار پھر دھمکی دی کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے برقی پراجکٹس اور پلوں کو تباہ کر دیا جائے گا۔اتوار
کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے ایران پر ہفتہ کے روز آبنائے ہرمز میں ہونے والے حملوں کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتوں کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کو “ایک
مناسب معاہدہ” پیش کر رہے ہیں اور اگر تہران اسے مسترد کرتا ہے تو “امریکہ ایران کے ہر ایک پاور پراجکٹ اور ہر ایک پل کو تباہ کر دے گا۔ اب مزید نرمی نہیں!”ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا “ایران نے کل آبنائے ہرمز میں گولیاں چلائیں جو
ہمارے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے! ان میں سے کئی گولیاں ایک فرانسیسی جہاز اور برطانیہ کے ایک مال بردار جہاز پر چلائی گئیں۔ یہ اچھا نہیں تھا، ہے نا؟ میرے نمائندے کل شام بات چیت کے لیے اسلام آباد پاکستان جا
رہے ہیں۔ ایران نے حال ہی میں آبنائے کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے جو عجیب ہے کیونکہ ہماری ناکہ بندی نے اسے پہلے ہی بند کر دیا ہے۔ وہ انجانے میں ہماری مدد کر رہے ہیں اور اس بند راستے سے نقصان انہی کا ہو رہا ہے روزانہ 50 کروڑ
ڈالر کا!”ٹرمپ نے مزید کہا “امریکہ کو کوئی نقصان نہیں ہو رہا۔ درحقیقت کئی جہاز اب امریکہ، ٹیکساس، لوزیانا اور الاسکا کی طرف سامان لادنے کے لیے روانہ ہو رہے ہیں یہ سب آئی آر جی سی کی مہربانی ہے جو ہمیشہ ‘سخت’ بننا چاہتی
ہے!” ہم ایک بہت ہی منصفانہ اور مناسب معاہدہ پیش کر رہے ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ اسے قبول کریں گے کیونکہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو امریکہ ایران کے ہر ایک برقی پراجکٹ اور ہر ایک پل کو تباہ کر دے گا۔ اب مزید نرمی نہیں! وہ فوری
اور آسانی سے کارروائی کریں گے اور اگر وہ معاہدہ قبول نہیں کرتے تو میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہوگی کہ وہ کام کروں جو گزشتہ 47 برسوں سے دوسرے صدور کو ایران کے ساتھ کرنا چاہیے تھا۔ اب ایران کی قتل کی مشین کو ختم کرنے کا
وقت آ گیا ہے!” واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی نافذ ہے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب اپنے ہی ملک میں تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔ امریکہ کی سابق نائب صدر کمالا ہیرس نے کہا ہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن
یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ میں گھسیٹا۔ کمالا ہیرس نے مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی کارروائیوں سے ملک نے اپنے اتحادیوں کا اعتماد کھو دیا ہے۔



