تلنگانہ

نسیم عارفی اردو میڈیا ایوارڈ ۲۰۲۵ کی شاندار تقریب زیر اہتمام CETI فاؤنڈیشن

کے این واصف

اردو صحافیوں کو کسی ایوارڈ دیا جانا اعزاز نہیں بلکہ ان کا قرض اتارنے جیسا ہے۔ یہ بات ڈاکٹر اوصاف سعید سابق سکریٹری وزارت خارجہ ہند نے کہی۔ وہ “نسیم عارفی اردو میڈیا ایوارڈز” تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ اس تقریب کا انعقاد ہفتہ کی صبح تلنگانہ میڈیا اکیڈمی چیپل روڈ حیدرآباد میں ہوا۔ جس کی صدارت صدر نشین میڈیا اکیڈمی مسٹر کے سرینواس ریڈی نے کی۔

 

اپنے خطاب میں ڈاکٹر اوصاف سعید نے مزید کہا کہ اردو صحافت کو طباعت و اشاعت کی نئی ٹکنالوجیز سے ہم آہنگ کیا جانا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ اردو کسی مخصوص علاقے، طبقے یا فرقہ کی زبان نہین ہے۔ اردو ہندوستان اور ہندوستانیون کی زبان ہے۔ انھون نے یہ بھی کہا کہ اردو صحافت ایک تہذیب کی عکاسی کرتی ہے۔ اردو صحافت اپنی دوسو سالہ شاندار تاریخ رکھتی ہے۔جن مین جنگِ آزادی میں شہادت پانے والے صحافی بھی شامل ہیں۔ اوصاف نے کہا کہ ابتدائی دور سے آج تک اردو صحافت سے جوڑے رہنے والون نے ہمیشہ جرئت، ہمت سے کام کیا ہے۔ ڈاکٹر اوصاف نے کہا کہ صحافی واقعات کا شاہد ہوتا ہے اور وہ اپنے دور کی تاریخ لکھتا ہے۔ صحافی کو ہمیشہ سچ کے ساتھ کھڑے ہونا چاہئیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اردو صحافت کی بقاء و ترقی میں اہل اردو کو اپنا کردار نبھانا چاہئے۔

 

اردو کے معروف افسانہ نگار جناب عوض سعید کے فرزند ڈاکٹر اوصاف نے یہ بھی کہا کہ ان کے کیریئر میں اردو صحافت نے ان کی بڑی سپورٹ و تعاون کیا۔ آخر میں انھون نے نسیم عارفی سے ان کی ملاقاتوں ذکر کرتے ہوئے انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔چیرمین تلنگانہ میڈی اکیڈمی کے۔ سرینواس ریڈی نے اپنے خطبہ صدارت میں کہا کہ اکیڈمی نے ہمیشہ اس کا جائز مقام دینے کی کوشش کی ہے۔ انھون نے کہا کہ اکیڈمی نے اپنے طور پر برسرے کار صحافیون کے لئے ریفریشر کورسس اور ورکشاپس کا اہتمام کرتی ہے۔ انھون نے یہ بھی کہا کہ اکیڈمی صدر تلنگانہ اردو جرنلسٹ فیڈریشن ایم اے ماجد کے تجویز کردہ صحافیوں کے تربیتی پروگرامز کا اہتمام بھی کیا ہے۔

 

سرینواس ریڈی نے CETI فاؤنڈیشن سے ہمیشہ تعاون برقرار رکھنے کا تیقن بھی دیا۔ نسیم عارفی اردو میڈیا ایوارڈز ۲۰۲۵ میں کارنامہ حیات ایوارڈ حاصل کرنے والے دہلی سے تشریف لائے نامور صحافی معصوم مراداآبادی نے کہا کسی اردو صحافی کے نام سے موسوم کیا گیا ہندوتان میں اپنی نوعیت کا پہلا ایوارڈ ہے۔ انھون نے کہا کہ نسیم عارفی کا سرمایہ ان کی فکر تھی۔ ان میں جدّت طرازی تھی۔ وہ جس اخبار سے جڑے اسے بلندیون پر پہنچایا۔ نسیم عارفی کی صلاحیتوں کو خراج پیش کرتے ہوئے معصوم مرادآبادی نے کہا کہ اردو صحافت میں عارفی کو ان کا جائز مقام نہین ملا جو کا حق تھا۔ انھون نے نسیم عارفی سے اپنے دیرینہ تعلقات کا بھی ذکر کیا۔ معصوم مرادآبادی نے ملک کے مین اسٹریم میڈیا نے جو راہ اختیار کی ہے اس پر شدید افسوس اور تشویش کا اظہار کیا۔ انھون نے کہا کہ “سوچنا” کو “سماچار” بنانا صحافت ہے ناکہ انتشار اور نفرت پھیلانا۔

 

اس موقع پر دیگر ایوارڈ حاصل کرنے والوں نے بھی مخاطب کیا جن میں ڈاکٹر یمین انصاری، مسز روہنی سنگھ، فضل بیگ اور علیم الدین شامل تھے۔ ابتداء میں CETI فاؤنڈیشن کے بانی و صدر آرکٹکٹ سید بشارت علی نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ یہ ایوارڈ نسیم عارفی کے خوابون کی تعبیر ہے۔ وہ ہمیشہ نوجوان صحافیون کی ہمت افزائی کے قائل تھے۔ CETI فاؤنڈیشن نے دوسرے سال بھی ایوارڈ کے لئے ان صحافیون کو نامزد کیا جو ایماندارانہ صحافت کے امین ہیں۔پروفیسر احتشام احمد خان ڈین شعبہ صحافت مولانا آزاد اردو یونیورسٹی نے نسیم عارفی ایوارڈ کے قیام، درخواست گزاروں کی تعداد، انعام یافتہ گان کے انتخاب کے عمل اس کی شفافیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انھون نے بتایا کہ مانو ایک نیا فلم میکنگ کا کورس کا آغاز کیا ہے۔ اردو صحافی اور دیگر اس کورس میں داخلے حاصل کرسکتے ہیں۔

 

ڈاکٹر اوصاف سعید اور سرینواس ریڈی کے ہاتھون انعام یافتہ گان معصوم مرادآبادی، مسز روہنی سنگھ، ڈاکٹر یمین انصاری، فضل بیگ اور علیم الدین کو شال، توصیف نامہ اور نقد انعام پیش کئے گئے۔ اس کے علاوہ مہمانان اور چند معروف صحافیون کو بھی تہنیت پیش کی گئی جن میں عمر دراز خان (رہنمائے دکن)، عزیز احمد (اعتماد)، جعفر حسین(صدائے حسینی) ڈاکٹر فاضل حسین پرویز (گواہ)، امین الحسن جعفری (سینئر صحافی) محمد ساجد (کامل یقین) پروفیسر حسنین (سائنٹسٹ) اور سعید الدین (سینئر فوٹوگرافر) شامل تھے۔

 

اس موقع پر پدماشری عابد علی خان اور نسیم عارفی کے حیات و کارناموں پر میڈی اکیڈمی کی جانب سے شائع Monograpph Series کی رسم اجراء بھی انجام دی گئی۔ جناب عامر اللہ خان رکن تلنگانہ پبلک سروس کمیشن نے دلچسپ انداز میں نظامت کے فرائض انجام دئیے۔ صدر تلنگانہ اردو جرنلسٹ فیڈریشن جناب ایم اے ماجد کے ہدیہ تشکر پر اس پروقار تقریب کا اختتام عمل میں آیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button