میڈیا اکیڈمی میں نسیم عارفی ایوارڈ تقریب – ڈاکٹر اوصاف سعید ،سرینواس ریڈی،معصوم مراد آبادی ،روہی سنگھ اور پروفیسر احتشام کا خطاب

اردو صحافت نے ایماندارانہ اور پیشہ ورانہ خدمت انجام دی ہے _ صحافیوں کی جرات قابل تحسین
میڈیا اکیڈمی میں نسیم عارفی ایوارڈ تقریب – ڈاکٹر اوصاف سعید ،سرینواس ریڈی،معصوم مراد آبادی ،روہی سنگھ اور پروفیسر احتشام کا خطاب
حیدرآباد 16 مئی (پریس نوٹ) ڈاکٹر اوصاف سعید سابق سفیر ہند برائے سعودی عرب و سکرٹری وزارت خارجہ حکومت ہندنے کہا کہ اردو زبان کی آواز ہمیشہ بلند رہی ہے اور بلند رہے گی اردو صحافی چشم دید گواہ ہوتا ہے اردو صحافت نے بڑی ہی ایماندارانہ اور پیشہ ورانہ انداز میں اپنی خدمات انجام دی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سی ای ٹی آئی( سینٹر فار ایکسیلنس ان ٹریننگ انوویشن) کے زیر اہتمام نسیم عارفی اردو میڈیا ایوارڈ2025 تقریب سے مخاطب کرتے ہوئے کیا
جو حیدرآباد میں میڈیا اکیڈمی نامپلی میں منعقد ہوئی اس موقع پر جناب معصوم مراد آبادی کو کارنامہ حیات ایوارڈ کے علاوہ ڈاکٹر یامین انصاری ریزیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ انقلاب،محترمہ روہنی سنگھ،جناب فضل بیگ اور فوٹو جرنلسٹ محمد علیم الدین کو نسیم عارفی ایوارڈ عطا کیا گیا پروفیسر اوصاف سعید نے صدارتی سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں نوجوان صحافیوں کی قدر کرنا ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کو مزید آگے بڑھانا بے حد ضروری ہو گیا ہے انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو جو ایوارڈ دیے گئے ہیں
درحقیقت ان کو یہ ایوارڈ نہیں بلکہ ایک حد تک ان کا قرض اتارنے کی کوشش کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ اردو صحافی بھی صبح سے شام تک صحافتی خدمات میں مصروف رہتے ہیں انہوں نے ممتاز و معروف صحافی جناب نسیم عارفی مرحوم کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جناب نسیم عارفی نے اردو صحافت کو بلندیوں تک پہنچایا ہے انہوں نے جناب نسیم عارفی سے اپنے دیرینہ تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب میں پاسپورٹ آفیسر تھا اور پھر سفیر برائے سعودی عرب نامزد ہوا اور کئی مواقع پر نسیم عارفی صاحب سے ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں وہ اردو صحافت کو جدید انداز میں لے جانے کے خواہشمند تھے اور ان کی کوششیں بڑی حد تک ثمر آور بھی ہوئی ہیں
انہوں نے اس موقع پر نسیم عارفی ایوارڈ پانے والے دہلی کے ممتاز و معروف صحافی جناب معصوم مرادآبادی کو "حافظ صحافت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اردو صحافت میں جناب معصوم مرادآبادی قابل قدر شخصیت ہیں جنہیں ہندوستان میں ازادی سے لے کر اب تک اردو صحافت کی خدمت کرنے والوں کے نام اور اخبارات کے نام اچھی طرح سے یاد ہیں ڈاکٹر اوصاف سعید نے مزید کہا کہ اردو صحافت کو آج کئی مسائل درپیش ہیں قارین کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے لیکن خوشی اس بات کی ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کے بڑھتے ہوئے اس دور میں پرنٹ میڈیا کی اہمیت و افادیت اب بھی باقی ہے
انہوں نے سی ای ٹی آئی فاؤنڈیشن کے صدر جناب جناب سید بشارت علی اور ان کے رفقار کو مبارکباد دی کہ وہ نسیم عارفی ایوارڈ کے ذریعے اردو کے اردو کے صحافیوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں جناب سید بشارت علی فاؤنڈر سی ای ٹی آئی نے تمام معزز مقررین کاخیر مقدم کیا اور نسیم عارفی ایوارڈ کے لیے منتخب ہونے پر فاؤنڈیشن کی طرف سے سبھی ایوارڈ یافتگان کو مبارکباد دی جناب سرینواس ریڈی چیئرمین میڈیا اکیڈیمی آف تلنگانہ نے کہا کہ اردو صحافت میں جناب عابد علی خاں اور نسیم عارفی یادگار شخصیات ہیں جنہوں نے اردو صحافت کو بام عروج پر پہنچایا انہوں نے کہا کہ ان دو صحافیوں کے بارے میں ایک کتابچہ بھی شائع کیا گیا ہے
جناب سر ینواس ریڈی نے کہا کہ سی ای ٹی آئی فاؤنڈیشن کی کارکردگی قابل قدر ہے ہم اس کی ستائش کرتے ہیں اور اس کے لیے ہر ممکن تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں انہوں نے سی ای ٹی آئی فاؤنڈیشن کے روح رواں جناب بشارت علی کو مبارکباد باد دی ممتاز ماہر معاشیات ڈاکٹر عامر عامر اللہ خان نے اس پر اثر و با وقار تقریب کی کار وائی چلائی اور جناب نسیم عارفی کی صحافتی خدمات کو خراج عقیدت ادا کیا اور کہا کہ جناب نسیم عارفی نے ہمیشہ عوامی مفادات کا خاص پاس و لحاظ رکھا ان کی صحافتی خدمات تا دیر بھلائی نہیں جائیں گی
ممتاز و معروف سینیئر صحافی جناب معصوم مراد آبادی جنہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایورس عطا کیا گیا ، نے کہا کہ صحافت پروفیشن کے ساتھ کمیشن بن گئی ہے جو کہ نامناسب بات ہےجناب نسیم عارفی نے اردو صحافت کو معیار کی بلندیوں تک پہنچایا اگر وہ انگریزی صحافت سے وا بستہ ہو جاتے تو صحافتی میدان میں ان کی مزید پذیرائی ہوتی تھی انہوں نے صحافت کے مختلف ادوار پر تفصیلی روشنی ڈالی انہوں نے کہا کہ صحافت میں دیانت داری اور محنت بہت ضروری ہے موجودہ دور میں لوگ بغیر کسی محنت کے اپنا نام روشن کرنا چاہتے ہیں جو مناسب بات نہیں صحافت پروفیشن کے ساتھ کمیشن بھی بن گئی ہے انہوں نے کہا کہ کوئی بھی پیشہ ہو وہاں ترقی فوری نہیں ہوتی ایڑیاں رگڑنی پڑتی ہیں صحافت سے متعلق صحافیوں میں جو قدیم اور عظیم جذبہ تھا اب وہ بہت کم دیکھنے میں آرہا ہے انہوں نے کہا کہ "سوچنا کو سماچار بنانے میں کافی مشکل ہے” تب ہی ہم اچھے صحافی بن سکتے ہیں صحافی کے کاندھوں پر سماج کے اقدار کو سنبھالنے کی ذمہ داری ہے صحافیوں کو چاہیے کہ ذمہ داریوں اور حوصلوں کے ساتھ صحافتی خدمات انجام دیں انہوں نے کہا کہ میدان جنگ کا سب سے قیمتی ہتھیار حوصلہ ہوتا ہے اور زندگی کی جنگ حوصلوں سے ہی لڑی جاتی ہے ڈاکٹر یامین انصاری ریزیڈنٹ ایڈیٹر انقلاب جنہیں نسیم عارفی ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ایوارڈ ہمارے لیے ایوارڈ ہی نہیں ہے
بلکہ صحافتی خدمات کی حوصلہ افزائی ہے ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد اب ہماری صحافتی خدمات کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے انہوں نے کہا کہ اردو صحافت کا 200 سالہ دور مکمل ہو چکا ہے ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو صحافت میں کافی نمایاں رول ادا کیا ہے اردو کے خدمات کے حوالے سے حیدراباد شہر ہندوستان بھر میں ایک ممتاز اور مایہ ناز مقام رکھتا ہے انہوں نے اردو صحافیوں کے لیے نسیم عارفی ایوارڈ عطا کیے جانے پر سی ای ٹی آئی فاؤنڈیشن سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ اردو صحافت میں ترقی کے کافی مواقع ہیں اردو صحافت کو جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہوئے مزید آگے بڑھنا وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے محترمہ روہینی سنگھ جنہیں نسیم عارفی ایوارڈ یافتہ عطا کیا گیا انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کا تعلق سکھ گھرانے سے ہے انہوں نے کہا کہ سکھوں کا اردو اور عربی زبان سے چولی دامن کا تعلق رہا ہے
انہوں نے کہا کہ میں نے قومی کونسل کا ایک سالہ اردو ڈپلومہ کورس دو سال میں تکمیل کیا ہے میں نے لفظ لفظ اور جملہ جملہ جوڑ کر اردو پڑھنا سیکھا ہے انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو لکھنے کے لیے ایک اچھا سا سافٹ ویئر اور آن لائن اردو ڈکشنری بھی وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے اس سے آنے والی نسلوں کو بھی اردو سیکھنے میں کافی مدد ملے گی انہوں نے اردو زبان کو مذہب سے نہ جوڑنے پر زور دیا اور کہا کہ دکن سے لے کر دہلی تک ملک کے ہر علاقے میں اردو بولی لکھی اور پڑھی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ اردو زبان کو ریاڈیکل بھاشا نہ سمجھا جائے پروفیسر احتشام نے کہا کہ نسیم عارفی ایوارڈ کے سلسلے میں درخواستوں کی بہت ہی دیانت دارانہ انداز میں تنقیح کی گئی ہے انہوں نے بتایا کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں فلم میکنگ کورس شروع کیا جا رہا ہے
جو عصری تقاضوں کے تحت ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کورس سے زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ کریں انہوں نے مزید بتایا کہ اردو صحافیوں کی خدمات کا اعتراف وقت کا تقاضہ ہے اور اسی ضرورت کو اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے فاؤنڈیشن کے صدر جناب سید بشارت علی نے بیڑ ہ اٹھایا ہے انہوں نے جناب نسیم عارفی مرحوم کی صحافتی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جناب نسیم عارفی نے اردو صحافت کو معیاری بلندیوں تک پہنچایا انہوں نے مختلف اردو اخبارات کے علاوہ ای ٹی وی اردو میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں جو قابل قدر اور قابل تقلید ہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ سی ای ٹی ائی فاؤنڈیشن کی جانب سے دیے جانے والے ایوارڈ کی رقم میں گزشتہ کی بہ نسبت اب اضافہ کیا گیا ہے نسیم عارفی ایوارڈ یافتہ فوٹو جرنگسٹ جناب محمد علیم الدین نے ایوارڈ کے لیے منتخب کرنے پر فاؤنڈیشن سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ وہ اس پیشہ سے وابستہ ہوتے ہوئے صحافتی خدمات انجام دے رہے ہیں اس سلسلے میں انہوں نے اپنے والد محترم جناب محمد سعید الدین بانی اسٹائل پریس فوٹو سروس کی مشفقانہ سرپرستی اور رہنمائی کا خصوصی طور پر تذکرہ کیا سینیئر صحافی و سابق رکن پریس کونسل آف انڈیا جناب ایم اے ماجد نے اس تقریب کی کاروائی چلائی اور تمام مقامی و بیرونی مہمان مقررین کے علاوہ سامعین کا دلی شکریہ ادا کیا اور ایوارڈ پانے والے تمام صحافیوں کو دلی مبارکباد بھی پیش کی اس موقع پر ڈاکٹر اوصاف سعید اور سرینواس ریڈی کے ہاتھوں ممتاز و معروف سائنس داں پروفیسر حسنین ،جناب سید امین الحسن جعفری سابق رکن قانون ساز کونسل تلنگانہ، جناب عزیز احمد جوائنٹ ایڈیٹر روزنامہ اعتماد، جناب عمر دراز خان ایڈیٹر رہنمائے دکن، ڈاکٹر فاضل حسین پرویز چیف ایڈیٹر ہفت روزہ گواہ حیدرآباد ، جناب جعفر حسین ایڈیٹر صدائے حسینی، جناب محمد صادق ایڈیٹر کامل یقین ناندیڑ اور جناب محمد سعید الدین سینیئرفوٹو جرنلسٹ کو تہنیت پیش کرتے ہوئے ان معززین کی صحافتی خدمات کا اعتراف کیا گیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا
اس موقع پر جناب وینکٹیشم سیکریٹری میڈیا اکیڈیمی کے علاوہ جناب جے ایس افتخار ،محترمہ رتنا چوٹر انی ،محترمہ تنویر ،محترمہ فردوس فاطمہ چیف آپریٹنگ آفیسر سی ای ٹی آئی،محترمہ تسنیم خان کوآرڈینیٹر سی ای ٹی ائی ،جناب محمد ضیاء الدین ریٹائرڈ چیف انجینئر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد،سینیئر صحافی جناب کے این واصف ،ڈاکٹر شجاع الدین افتخاری حقانی پاشاہ،جناب محمد مطہر الدین، ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد ،ماہر تعلیم محمد حسام الدین ریاض،جناب سید منصور علی، جناب محمد حسین قادری عارف، جناب شہاب الدین ہاشمی ،ڈاکٹر ناظم علی ناظم ,جناب محمد حسام الدین متین،جناب طاہر فراز ،جناب سید غوث محی الدین ایڈیٹر آئی این ڈی ٹوڈے،جناب محمد راشد،جناب نظام الدین،جناب افتخار علی واجد اردو لیکس، جناب غلام ربانی ،محترمہ ثنا احمر،جناب سید ظہور الدین صدر نشین سکندر آباد کوآپریٹو بینک ،جناب محمد طاہر رومانی ،شیخ رفیع الدین اصف جناب ایس ایس کے اقبال حسینی بندہ نوازی کے علاوہ صحافیوں ڈاکٹرز انجینیئرز اور سماج کے مختلف شعبوں سے وابستہ دیگر معززین کی کثیر تعداد شریک رہی



