نیشنل

بابری مسجد فیصلہ پر تحقیقی رپورٹ جاری، مندر توڑے جانے کا کوئی ثبوت نہیں: جمعیۃ علماء ہند

بابری مسجد فیصلے اور عبادت گاہ قانون 1991 پر تحقیقی رپورٹ جاری

#جمعیۃ علماء ہند اور ساملا کے زیرِ اہتمام سیکولرازم اور عدالتی انصاف پر اہم مذاکرہ؛ بابری مسجد معاملے میں مندر توڑے جانے کا کوئی ثبوت نہیں، عبادت گاہ قانون 1991 کو سختی سے نافذ کرنے کا مطالبہ

سینئر وکلاء کی بڑی تعداد میں شرکت؛ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے کہا — بابری مسجد فیصلے پر یہ رپورٹ تاریخ کی ایک اہم دستاویز ثابت ہوگی۔

نئی دہلی، 16 مئی : جمعیۃ علماء ہند کے ذیلی ادارے “جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائنورٹیز” اور “ساؤتھ ایشین مائنورٹیز لائرز ایسوسی ایشن” (ساملا) کے مشترکہ زیرِ اہتمام نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا کے ڈپٹی اسپیکر ہال میں ایک اہم پروگرام منعقد ہوا، جس میں بابری مسجد فیصلے اور عبادت گاہ قانون 1991 پر ایک تحقیقی رپورٹ جاری کی گئی۔

 

اس پروگرام کی صدارت جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کی، جبکہ ملک کے ممتاز سینئر وکلاء، قانونی ماہرین، سابق جج صاحبان اور دانشوروں نے شرکت کی۔

 

جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ عبادت گاہ قانون 1991 ہندوستان کے سیکولر ڈھانچے، مذہبی ہم آہنگی اور آئینی استحکام کے تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے تاکہ تاریخی تنازعات کو دوبارہ ہوا نہ دی جا سکے۔ رپورٹ میں سپریم کورٹ کے اہم فیصلوں، خصوصاً اسماعیل فاروقی مقدمہ (1994) اور ایم صدیقی (ایودھیا فیصلہ 2019) کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا کہ اسماعیل فاروقی مقدمے میں مسجد کو اسلام کا لازمی جز قرار نہ دینے والی تشریح نے بعد کے مقدمات پر گہرا اثر ڈالا۔

 

رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ عبادت گاہ قانون 1991 کو سختی سے نافذ کیا جائے اور آئینی سیکولرازم اور مذہبی مساوات کے اصولوں کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

 

رپورٹ کے اجراء کے بعد مولانا محمود اسعد مدنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بابری مسجد فیصلے پر سنجیدہ اور گہرے مطالعے کی اشد ضرورت تھی تاکہ آنے والی نسلیں یہ جان سکیں کہ ایک طبقہ اس فیصلے کو مختلف زاویے سے دیکھتے ہوئے اپنے موقف کو علمی اور آئینی انداز میں دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ ہندوستان کی سیکولر شناخت، آئینی اقدار اور باہمی ہم آہنگی کے تحفظ کی ایک سنجیدہ اور دیانتدارانہ کوشش ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ بابری مسجد معاملے میں کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ مسجد کسی مندر کو گرا کر تعمیر کی گئی تھی، بلکہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کے پیراگراف 788 اور اس کے بعد واضح کیا کہ اس دعوے کے حق میں کوئی قطعی ثبوت موجود نہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ فیصلے کے بعد ہندوستانی مسلمانوں نے صبر، ذمہ داری اور آئین پر اعتماد کا مظاہرہ کیا، لیکن اس کے باوجود گیان واپی، متھرا عیدگاہ، کمال مولا مسجد اور دیگر مذہبی مقامات سے متعلق نئے تنازعات کھڑے کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صرف کسی ایک طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ ہندوستان کی آئینی شناخت، عدالتی ساکھ اور انصاف کے بنیادی اصولوں کا معاملہ ہے۔

 

اس سے قبل ساملا کے جنرل سکریٹری ایڈوکیٹ فیروز غازی نے استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو عزت دیتی ہے جو انصاف، دیانتداری اور انسانی وقار کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئینی اخلاقیات اور “ستیہ میو جیتے” کا اصول بالآخر کامیاب ہوگا۔

 

سینئر ایڈوکیٹ اندرا جے سنگھ نے کہا کہ بابری مسجد فیصلہ اور عبادت گاہ قانون سے متعلق مقدمات صرف ایک مذہبی مقام یا تنازعہ کا معاملہ نہیں بلکہ ملک کے آئینی مستقبل کا سوال ہیں، جو ہندو اور مسلمان دونوں سے یکساں طور پر متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سیکولر اور جمہوری ملک میں جج کا بنیادی فرض آئین، قانون اور مساوات کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہے، نہ کہ مذہبی عقیدے کی بنیاد پر۔

 

چانکیہ نیشنل لا یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر فیضان مصطفیٰ نے کہا کہ عبادت گاہ قانون 1991 ملک میں مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت برقرار رکھنے کی آئینی کوشش ہے، تاہم صرف قانون کا موجود ہونا مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں۔ اصل ضرورت مذہبی مقامات کے دستاویزات، تاریخی ریکارڈ اور قانونی حیثیت کے مضبوط تحفظ کی ہے۔

 

سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید نے کہا کہ بابری مسجد فیصلے کا ایک اہم حصہ مسلمانوں کے قانونی موقف کی تصدیق کرتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی رپورٹس میں کہیں بھی واضح طور پر یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ کسی مندر کو منہدم کر کے مسجد تعمیر کی گئی تھی۔

 

سینئر وکیل ایم آر شمشاد نے خبردار کیا کہ عبادت گاہ قانون کو کمزور کرنے یا اے ایس آئی قوانین کے ذریعے نئے تنازعات کھڑے کرنے کی کوششیں ملک کے سیکولر اور آئینی ڈھانچے کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔

 

ایڈوکیٹ نظام پاشا نے کہا کہ مسجدیں صرف اینٹ اور پتھر کی عمارتیں نہیں بلکہ مسلمانوں کی مذہبی اور تاریخی شناخت کی علامت ہیں، اس لیے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی مساجد اور مذہبی علامات کے تحفظ کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہوں۔

 

سابق جج جسٹس اقبال احمد انصاری نے کہا کہ بابری مسجد معاملے میں جو کچھ ہوا وہ محض ایک “فیصلہ” تھا، مکمل “عدالتی انصاف” نہیں، کیونکہ عدالتی فیصلے کیلئے مضبوط اور منطقی بنیاد ضروری ہوتی ہے۔

 

سینئر ایڈوکیٹ اعجاز مقبول نے کہا کہ اگر تاریخ میں کوئی غلطی یا ناانصافی ہوئی ہے تو اسے دیانتداری اور غیر جانبداری کے ساتھ یاد رکھنا اور حقائق کی بنیاد پر پیش کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنے آئینی حقوق، خصوصاً آرٹیکل 30 کے تحت مذہبی و تعلیمی آزادیوں کے تحفظ کا ہے۔

 

اس موقع پر محقق نظام الدین احمد صدیقی، ایڈوکیٹ رؤف رحیم، ایڈوکیٹ طاہر ایم حکیم، مولانا محمد حکیم الدین قاسمی، مولانا نیاز احمد فاروقی، ایڈوکیٹ روبینہ جاوید، ایڈوکیٹ جے ایچ جعفری، ایڈوکیٹ فضیل ایوبی، ایڈوکیٹ رخسانہ چودھری، ایڈوکیٹ اے سراج الدین، پروفیسر حسینہ ہاشیہ، پروفیسر مجیب الرحمن، ایڈوکیٹ طیب خان اور ایڈوکیٹ محمد نور اللہ سمیت ملک کے کئی ممتاز وکلاء اور دانشوروں نے شرکت کی۔ پروگرام کی نظامت ساملا کے صدر ناصر عزیز نے انجام دی جبکہ شکریہ کی رسم ایڈوکیٹ منصور علی خان نے ادا کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button