ریاض میں اچانک سائرن بج اٹھے، دھماکوں سے مچی کھلبلی؛ حوثیوں کے بڑھتے حملوں کے بیچ سعودی دارالحکومت پہلی بار ریڈ الرٹ

ریاض – سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں فضائی حملے کے الرٹ جاری ہونے اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کے بعد حکام نے شہریوں کو خطرہ ٹل جانے کی اطلاع دیتے ہوئے محفوظ قرار دے دیا۔
سعودی سول ڈیفنس نے جمعہ کی دیر رات اور ہفتہ کی صبح مقامی وقت کے مطابق ریاض سمیت کئی علاقوں کے لیے فضائی حملے کے الرٹ جاری کئے۔ دارالحکومت میں رائٹرز اور اے ایف پی کے صحافیوں نے بھی دھماکوں کی آوازیں سننے کی تصدیق کی۔ تاہم حکام نے بعد میں بتایا کہ خطرہ اب ٹل گیا ہے۔ شہریوں کو احتیاطاً ہجوم کی شکل میں جمع ہونے سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی۔
یہ جولائی میں حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف حملوں میں اضافے اور نام نہاد ’’بحری ناکہ بندی‘‘ کے اعلان کے بعد ریاض میں پہلی مرتبہ فضائی حملے کا الرٹ جاری کئے جانے کا واقعہ ہے۔
ایران نواز حوثیوں نے حال ہی میں یمن کے اہم بندرگاہی شہر المخا اور آبنائے باب المندب کے قریب واقع جزیرہ میون (پیریم) پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ علاقہ خلیجی ممالک کی ایشیا اور یورپ کو برآمدات کے لیے استعمال ہونے والی اہم بحری گزرگاہ کے قریب واقع ہے۔
حوثی فوجی ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے زیر کنٹرول شمال مغربی یمن کی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی ناکہ بندی کے جواب میں بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا گیا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے کے باعث سعودی بحری جہازوں نے تیل کی برآمدات کے لیے بحیرہ احمر کے راستے پر زیادہ انحصار کیا ہے۔
گزشتہ ہفتے حوثیوں نے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور بعض تنصیبات میں آپریشن عارضی طور پر روکنا پڑا۔
سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں تک بھی پہنچے ہیں، جبکہ کئی ممالک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب دو ذرائع نے امریکی میڈیا پارٹنر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سعودی ولی عہد اور ملک کے بااختیار حکمران محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کی درخواست کی ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے فی الحال امریکی فوج کو براہِ راست کارروائی میں شامل کرنے سے انکار کیا ہے اور اس کے بجائے انٹیلی جنس اور اہداف سے متعلق معاونت کی پیشکش کی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ امریکہ سعودی عرب اور یمن کی حکومت کے ساتھ علاقائی استحکام کے حوالے سے مسلسل رابطے میں ہے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے رواں ہفتے کہا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یمن میں 450 سے زائد فضائی حملوں کے جواب میں حوثیوں نے سعودی عرب پر ڈرونز اور میزائل داغے ہیں۔



