جنرل نیوز

صحافی، ادیب اور اردو کے مخلص خادم فاروق سید کو پُرنم آنکھوں سے خراجِ عقیدت

تعزیتی نشست میں مقررین کا اعتراف: “فاروق سید محبت، خلوص، جدوجہد اور اردو دوستی کا ایک مکمل عہد تھے”

ممبئی: معروف صحافی، بچوں کے مقبول رسالہ “گل بوٹے” کے مدیر اور اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے خازن مرحوم فاروق سید کی یاد میں منعقدہ تعزیتی نشست ایک پُراثر اور جذباتی اجتماع میں تبدیل ہوگئی، جہاں صحافیوں، ادیبوں، سماجی کارکنوں، اہلِ قلم اور مرحوم کے رفقاء نے بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ مقررین نے کہا کہ فاروق سید ایک مخلص، بے لوث، منکسرالمزاج اور انسان دوست شخصیت تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اردو زبان، بچوں کے ادب اور صحافتی برادری کی خدمت کے لیے وقف کردی تھی۔

 

تعزیتی نشست کے آغاز میں سرفراز آرزو نے کہا کہ فاروق سید نے اردو زبان کے فروغ، بچوں کے ادب کی ترویج اور صحافیوں کی تنظیم سازی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے قیام، رجسٹریشن، بینک اکاؤنٹ اور تنظیمی امور کو مستحکم بنانے میں اہم خدمات انجام دیں۔ ان کے مطابق مرحوم نے ہمیشہ خاموشی، دیانت داری اور خلوص کے ساتھ کام کیا۔

 

فاروق انصاری نے مرحوم کے ساتھ اپنے چالیس سالہ تعلقات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ فاروق سید نے مسلسل جدوجہد اور محنت سے صحافت میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ انہوں نے “گل بوٹے” کے ذریعے بچوں کے ادب کو نئی جہت دی اور ممبئی کے متعدد اسکولوں تک اس رسالے کو پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ سخت معاشی حالات کے باوجود فاروق سید نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور بیماری کے آخری ایام میں بھی صبر و حوصلے کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔

 

عبدالحلیم صدیقی نے کہا کہ فاروق سید کی سب سے بڑی خوبی ان کی سادگی، نرم گفتاری اور دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونا تھا۔ وہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور تعلیم و صحافت کو ساتھ لے کر چلنے کی تلقین کرتے تھے۔

 

اس موقع پر جاوید جمال الدین نے مرحوم کے ساتھ اپنے طویل تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فاروق سید اعلیٰ ظرفی اور خلوص کا پیکر تھے۔ انہوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ملازمت کے ایک موقع پر مقابلہ ہونے کے باوجود فاروق سید نے خود فون کرکے دوبارہ شائع ہونے والے اشتہار کی اطلاع دی، جو ان کی کشادہ دلی کی روشن مثال تھی۔

 

مشرف شمسی، سلیم الوارے اور شکیل رشید نے مرحوم کی انسان دوستی، ملنساری اور تعلقات نبھانے کی صلاحیت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ فاروق سید ہر دلعزیز شخصیت تھے، جو جس سے ملتے اسے اپنا بنالیتے تھے۔

 

سینئر کانگریسی ترجمان نظام الدین راعین اور کالم نویس سلیم خان نے کہا کہ فاروق سید اردو زبان اور سماجی سرگرمیوں کے ایک متحرک اور عملی کارکن تھے۔ انہوں نے زور دیا کہ مرحوم کے مشن اور رسالہ “گل بوٹے” کو جاری رکھنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جانی چاہئیں تاکہ ان کی خدمات زندہ رہیں۔

 

قاضی مہتاب نے کہا کہ فاروق سید ایک نفیس، شائستہ اور انتہائی منکسرالمزاج شخصیت کے مالک تھے، جبکہ رفیق شیخ نے بتایا کہ مرحوم کئی برسوں تک بغیر معاوضہ بچوں کو تعلیم دیتے رہے اور نوجوانوں کی رہنمائی کو اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔

 

یونس صدیقی نے کہا کہ “گل بوٹے” جیسے رسالے کو جاری رکھنا آسان نہیں تھا، مگر فاروق سید نے نامساعد حالات میں بھی کبھی خودداری اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ اسلم خان اور عمر لکڑا والا نے مرحوم کی بے لوثی اور اردو دوستی کے مختلف واقعات بیان کیے، جنہیں سن کر شرکاء آبدیدہ ہوگئے۔

 

مرحوم کے خالہ زاد بھائی امتیاز شیخ نے کہا کہ فاروق سید ان کے لیے والد جیسی شفقت رکھنے والی شخصیت تھے، جو ہر مشکل وقت میں ان کی رہنمائی کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ بیماری کے آخری ایام میں بھی مرحوم “گل بوٹے” کے مستقبل کے بارے میں فکرمند تھے۔

 

تعزیتی نشست کے اختتام پر انصاری اعجاز احمد نے دعائیہ کلمات ادا کیے جبکہ مہاراشٹر کالج کے ٹرسٹی جیلانی صاحب نے بھی مرحوم سے اپنے تعلقات کا ذکر کیا۔ بعدازاں مرحوم فاروق سید کے ایصالِ ثواب کے لیے اجتماعی دعا کی گئی۔ اس موقع پر نہال صغیر نے اظہارِ تشکر پیش کیا۔

 

شرکاء کی بڑی تعداد اشکبار آنکھوں کے ساتھ اس احساس کا اظہار کرتی رہی کہ فاروق سید صرف ایک صحافی نہیں بلکہ محبت، خلوص، جدوجہد، انسان دوستی اور اردو دوستی کا ایک روشن باب تھے، جو ہمیشہ اہلِ اردو کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button