سوشل میڈیا کی مدد سے 15 سال بعد والدین سے ملا بیٹا

نئی دہلی: ’’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں اپنے بچے کو دوبارہ دیکھ پاؤں گی۔ میں اللہ سے دعا کیا کرتی تھی کہ بس ایک بار نجیمُّل کو میری آنکھوں کے سامنے لے آئے۔ میری یہ خواہش پوری ہوگئی… اس سے بڑھ کر کوئی خوشی نہیں‘‘
یہ کہنا ہے نوریجہ بی بی کا۔پندرہ برسوں سے لاپتہ اپنے بیٹے کے انتظار میں اس ماں کی آنکھیں پتھرا گئی تھیں۔ مغربی بنگال کے ضلع مالدہ کے اسلام پور سے تعلق رکھنے والا نجیمُّل 15 سال پہلے سرحد پار کرکے بنگلہ دیش چلا گیا تھا۔ والد معروف علی نے اپنے بیٹے کی بہت تلاش کی اور پولیس میں شکایت بھی درج کرائی۔
جب تمام امیدیں ختم ہوتی دکھائی دے رہی تھیں، تب ایک سال پہلے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں نجیمُّل کا چہرہ نظر آیا۔ یہ معلوم ہونے پر کہ ان کا بیٹا بنگلہ دیش میں ہے والدین نے مقامی رکنِ پارلیمان اسحاق خان
چودھری سے مدد مانگی۔اسحاق خان چودھری نے دہلی جا کر وزارتِ خارجہ سے بات چیت کی، اور اُن کی کوششوں کے نتیجے میں جمعرات کے روز نجیمُّل اپنے والدین سے آ ملا۔ طویل انتظار کے بعد بیٹے
کو دیکھ کر معروف علی اور اُن کی اہلیہ کے ساتھ پورا گاؤں جذباتی ہوگیا۔




