حیدرآباد میں ریسنگ،نوجوانوں نے پولیس ملازم کو ٹکر دے دی پھر پولیس نے…

حیدرآباد میں ریسنگ،نوجوانوں نے پولیس ملازم کو ٹکر دے دی پھر پولیس نے…
حیدرآباد: شہر کے رائے درگم علاقے میں آدھی رات کے وقت نوجوانوں نے ہنگامہ آرائی کی۔ انہوں نے کاروں میں انتہائی شور پیدا کرنے والے سائلنسر لگا کر علاقے میں خوف و ہراس پھیلایا۔ویک اینڈ آتے ہی شہر کے مضافاتی آئی ٹی ہب
علاقوں میں کچھ نوجوان ہنگامہ آرائی کر تے ہیں۔ غیر قانونی ریسنگ کاروں اور بائیکس کے ذریعے شور شرابہ کرتے ہوئے مقامی لوگوں اور راہگیروں میں خوف و ہراس پیدا کیا جا رہا ہے۔آدھی رات کے وقت نالج سٹی علاقے میں چند نوجوان تیز
آواز والے خصوصی سائلنسر لگائی گئی کاروں اور بائیکس کو انتہائی رفتار سے چلا کر ہلچل مچاتے رہے۔پولیس کو اطلاع ملی کہ ٹی-ہب، آئیکیا اور مائی ہوم بھوجا کے قریب سڑکوں پر ریسنگ جاری ہے جس کے بعد پولیس فوراً حرکت میں
آگئی۔ اسی دوران وہاں سے گزر رہی ایک ہونڈا سٹی کار کو روکنے کی کوشش کی گئی مگر ڈرائیور نے گاڑی نہ روکی بلکہ پولیس اہلکاروں کی طرف ہی گاڑی دوڑا دی۔کار کو روکنے کی کوشش کرنے والے کانسٹیبل رمیش کے ہاتھ پر شدید
چوٹ آئی۔ اس کے بعد پولیس نے تعاقب کرتے ہوئے بائیک ریسنگ میں حصہ لینے والی کار کے سامنے رکھشک گاڑی کھڑی کر کے اسے روک دیا پھر نوجوانوں کی پٹائی بھی کی گئی،جبکہ ان میں سے بعض بھاگ گئے۔واقعے کے بعد رائے درگم پولیس نے مقدمہ درج کرکے لاپرواہی سے ڈرائیونگ کرنے والے نوجوان کو حراست میں لے لیا۔پولیس نے ملزم کے قبضے سے ہونڈا سٹی کار اور ایک موبائل فون ضبط کر لیا۔
پولیس کو دیکھتے ہی دیگر ریسنگ کرنے والے نوجوان موقع سے فرار ہوگئے جبکہ پولیس ان کی تلاش میں مصروف ہے۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ہفتے کی رات نوجوان ان سڑکوں پر انتہائی برق رفتار سے گاڑیاں چلاتے ہوئے بائیک ریسنگ میں حصہ لیتے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف ان کی بلکہ اس راستے سے گزرنے والے دیگر راہگیروں کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہے۔



