تلنگانہ

فیس کنٹرول قانون کے لئے ٹی آر ایس کی جدوجہد  ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کا محاصرہ  سینکڑوں تلنگانہ رکشنا سینا کارکنان گرفتار

حیدرآباد: ریاست میں کارپوریٹ اور پرائیویٹ اسکولس کی جانب سے فیسوں میں بے تحاشہ اضافہ کے خلاف تلنگانہ رکشنا سینا (ٹی آر ایس) نے احتجاجی رخ اختیار کیا اور فیس کنٹرول قانون نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسی سلسلہ میں منگل کو ٹی آر ایس قائدین اور سینکڑوں کارکنان نے لکڑی کا پل میں واقع ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کا محاصرہ کیا اور ایک گھنٹہ سے زائد وقت تک دفتر کے مرکزی دروازہ کے سامنے دھرنا دیتے ہوئے ریاستی حکومت اور وزیر اعلیٰ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ احتجاجی قائدین نے الزام عائد کیا کہ ریاست بھر کے پرائیویٹ اور کارپوریٹ اسکولس نے اچانک 100 فیصد سے لے کر 150 فیصد تک فیسوں میں اضافہ کر دیا ہے جس سے طلبہ کے سرپرستوں پر ناقابل برداشت مالی بوجھ ڈال عائد ہوا ہے لیکن اس کے باوجود حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ احتجاجیوں نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی جو محکمہ تعلیم کے بھی ذمہ دار ہیں۔ان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کارپوریٹ تعلیمی اداروں کی پشت پناہی کر رہے ہیں جس کے سبب یہ ادارے والدین کا استحصال کر رہے ہیں۔

 

قائدین نے فوری طور پر فیس کنٹرول قانون لانے کا مطالبہ کیا اور فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کو ختم کرنے کے لئے جاری کردہ جی او نمبر 7 کو فوری منسوخ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ 11 ہزار کروڑ روپئے کے بقایا جات جاری کرنے پر زور دیا۔

 

ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کے محاصرہ کے باعث لکڑی کا پل علاقہ میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی تو کارکنان نے دفتر کے گیٹس پر چڑھ کر اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ وزیر اعلیٰ اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ احتجاج کے سبب علاقہ میں ٹریفک نظام بری طرح متاثر ہوا اور طویل جام دیکھنے میں آیا۔

 

بعد ازاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے احتجاج میں شریک ٹی آر ایس قائدین اور کارکنان کو گرفتار کر کے نامپلی، نارائن گوڑہ، سیف آباد، بنڈلہ گوڑہ اور گوشہ محل پولیس اسٹیشنوں کو منتقل کر دیا۔ گرفتاری کے دوران دھکم پیل میں کئی خواتین قائدین زخمی بھی ہوئیں۔ تلنگانہ رکشنا سینا قائدین نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر طلبہ کے والدین کو راحت فراہم نہیں کی گئی تو احتجاج میں شدت پیدا کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button