آصف جاہی روایات برقرار‘بی بی کاعلم جلوس کاپرانی حویلی پر استقبال۔اوقاف کمیٹی ایچ ای ایچ دی نظام کی جانب سے روایتی ڈھٹی اور نذرانے کی پیشکشی

27/جون۔صدیوں پرانی شاہی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے، اوقاف کمیٹی ایچ ای ایچ دی نظام (H.E.H The Nizam) کی جانب سے جمعہ کے روز محرم الحرام کی دسویں تاریخ (یومِ عاشورہ) کے مرکزی جلوس کے موقع پر پیلی گیٹ، پرانی حویلی کے پاس بی بی کے علم مبارک پر روایتی’ڈھٹی‘ (مقدس کپڑا) اور ’نذرانہ‘ پیش کیا گیا۔
حیدرآباد کے نویں نظام، نواب میر محمد عظمت علی خان والاشان عظمت جاہ بہادر کی نمائندگی کرتے ہوے مکرم جاہ ٹرسٹ برائے تعلیم و تربیت اور ایچ ای ایچ اوقاف کمیٹی کے ٹرسٹی نواب ابو الفیض خان نے حلقہ چارمینار کے رکنِ اسمبلی (MLA) میر ذوالفقار علی کے ہمراہ یہ نذرانہ پیش کیا۔ اس موقع پر نواب فیض خان نے بی بی کے علم کے تاریخی جلوس میں بھی شرکت کی
جسے روایتی طور پر اس سال جلوس کے ہاتھی پر برآمد کیا گیا۔آصف جاہ ثانی، نواب میر نظام علی خان بہادر کے عہدِ حکومت میں تعمیر کیا جانے والا تاریخی’پیلی گیٹ‘ (زرد دروازہ) دراصل حویلیِ قدیم (پرانی حویلی) کا اصل صدر دروازہ تھا۔ یہ ابتدائی آصف جاہی دور کی قدیم ترین اور اہم ترین فنِ تعمیراتی و ثقافتی ورثہ گاہوں میں سے ایک ہے۔مکرم جاہ ٹرسٹ برائے تعلیم و تربیت (MJTEL) کے ٹرسٹی نواب ابو الفیض خان کے مطابق
واضح رہے کہ ڈھٹی اور نذرانے کی پیشکشی کی یہ روایت ایک سو سال سے زائد عرصے پر محیط ہے، جسے ساتویں نظام نواب میر عثمان علی خان نے پوری شان و شوکت کے ساتھ زندہ رکھا اور بعد ازاں ان کے پوتے اور آٹھویں نظام نواب میر برکت علی خان مکرم جاہ بہادر نے اسے اگلی نسلوں تک پہنچایا۔ اس موقع پر اوقاف کمیٹی ایچ ای ایچ نظام کے
سینئر رکن جناب عباس کے علاوہ صاحبزادہ ظہیر علی خان بھی موجود تھے۔



