وندے ماترم گیت عقیدہ توحید سے راست متصادم ۔ وفاق العلماء تلنگانہ چندرائن گٹہ کے جلسہ عام سے مولانا رکن الدین ندوی مولانا جاوید توثیق قاسمی ایڈوکیٹ خالد عبدالرحمن اور عادل سبیلی کا خطاب

*مسلمانوں کے لیے یہ ملک محبوب تو ہو سکتا ہے معبود نہیں۔*
وندے ماترم گیت عقیدہ توحید سے راست متصادم ۔ وفاق العلماء تلنگانہ چندرائن گٹہ کے جلسہ عام سے مولانا رکن الدین ندوی مولانا جاوید توثیق قاسمی ایڈوکیٹ خالد عبدالرحمن اور عادل سبیلی کا خطاب
مرکزی حکومت کی طرف سے ملک کے ہر شہری پر مشرکانہ گیت وندے ماترم کو لازمی کردینے کے فیصلہ پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے مولانا رکن الدین ندوی نظامی صدر وفاق العلماء تلنگانہ نےجامع مسجد سعید حمد ہاشم آباد میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے کسی فیصلے کا اثر سب سے زیادہ مسلمانوں کے عقیدہ و ایمان پر پڑے گا۔
۔ایک مسلمان کے لیے عبادت، سجدہ، استعانت اور قلبی تعظیم کا اعلیٰ ترین درجہ صرف اللہ رب العزت کے لیے ہے۔ یہی وہ بنیادی عقیدہ ہے جس پر اسلام کی پوری عمارت قائم ہے۔پھر کیسے کوئی مسلمان اس کو قبول کر سکتا ہے۔
اسلام اپنے وطن سے محبت سے منع نہیں کرتا، بلکہ وطن سے محبت کو ایک فطری جذبہ قرار دیتا ہے۔لیکن اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ وطن کی محبت کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی توحید اور اسلامی عقیدے پر غالب نہیں
آسکتی۔
لہٰذا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دین کے بنیادی عقائد کی حفاظت کرتے ہوئے اپنے ملک کا وفادار، امن پسند، قانون کا احترام کرنے والا اور معاشرے کی بھلائی کے لیے سرگرم شہری بنے۔مولانا ندوی۔ وندے ماترم تاریخی پس منظر آئینی حیثیت اور اسلامی نقطہ نظر۔کے عنوان سے مسجد سعید حمد ہاشم آباد میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
اس جلسہ کا مقصد کسی سے نفرت یا ٹکراؤ پیدا کرنا نہیں، بلکہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس مسئلے کو سمجھنا اور حکمت، اعتدال اور باہمی احترام کے ساتھ اپنی بات پیش کرنا اور اس کے لزوم کو برخاست کرنے کا مطالبہ کرنا ہے۔محترم جناب خالد عبدالرحمن ایڈوکیٹ ہائی کورٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ
یہ گیت عقیدہ اسلامی سے متصادم ہے۔یہ محض ایک قومی نعرہ نہیں بلکہ عقیدے کا مسئلہ ہے۔یہ گیت بنکم چندر چٹر جی کے ناول آنند مٹھ کا حصہ ہے۔اس نظم کے ابتدائی اشعار میں وطن کی تعریف موجود ہے لیکن اس کے بعد کے اشعار میں وطن کو دیوی درگا لکشمی اور سرسوتی کی صفات کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اور اس کے سامنے تعظیمی انداز اختیار کیا گیا ہے اسی بنا پر علماء امت نے یہ موقع اختیار کیا کہ یہ نظم مکمل طور پر مسلمانوں کے عقیدے توحید کے خلاف ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ بھارتی آئین میں مذہبی آزادی سے متعلق متعدد دفعات کے باوجود برسر اقتدار جماعت کی جانب سے اس گیت کو حب الوطنی کے ثبوت کے طور پر مانا جا رہا ہے اور اس کی توہین کو قابل سزا جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ جو ملک کے آئینی سیکولر اور جمہوری مزاج کے منافی اور شہریوں کی مذہبی آزادی پر سنگین حملہ ہے۔قانون سازی کے ذریعے کسی مخصوص مذہبی تصور یا عقیدے کو ملک کے تمام شہریوں پر مسلط کرنا دستور ہند کی بنیادی روح کےخلاف ہے۔
اس لیے مسلمانوں کےلئے اس کو لازمی طور پر قبول کرنا ممکن نہیں ہے ۔مسلمان وطن کے وفادار شہری ہونے اس کی ترقی کے لیے کام کرنے اس کے دفاع میں قربانی دینے اور اس کے آئین کے دائرے میں رہ کر ذمہ داریاں ادا کرنے کو اپنا دینی و اخلاقی فریضہ سمجھتے ہیں لیکن وہ اپنے عقیدے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔
مولانا جاوید توثیق قاسمی صدر وفاق العلماء چندرائن گٹہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان کی تحریک آزادی کا سنہرا باب مسلمانوں کی بے مثال محبت کا آئینہ دار ہے۔یہ ملک مسلمانوں کے لیے محبوب تو ہو سکتا ہے لیکن معبود نہیں ہو سکتا۔ مسلمانوں کی حب الوطنی کسی سرٹیفکیٹ یا مخصوص اشعار کی محتاج نہیں ہے۔مفتی عبدالفتاح عادل سبیلی نائب صدر وفاق العلماء نے مختصرا خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان اس نعرے کو قبول کر کے نہ اپنے ضمیر کا سودا کر سکتے ہیں اور نہ اپنے ایمان کا۔مسلمانوں کے پاس اس کا ایمان سب سے قیمتی اور عظیم سرمایہ ہے۔یہ وہ دولت ہے جس کو وہ کسی قیمت پر قربان کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔اسی پر دنیا اور آخرت کی کامیابی کا مدار ہے۔انہوں نے ایک شعر کے ذریعے اپنے خطاب کو مکمل کیا کہ کچھ رہے نہ رہے پر یہ تمنا ہےامیر۔ آخری وقت سلامت میرا ایمان رہے۔ مولانا سید توفیق عبید سبیلی نے اپنے ابتدائی کلمات میں اسلامی عقیدے کا تعارف کرایا اور اس مشرکانہ گیت سے متعلق اسلامی نقطہ نظر کو واضح کیا ۔اور حسن اور خوبصورتی کے ساتھ جلسہ عام کی نظامت کا فریضہ انجام دیا۔اس موقع پر مولانا محمد بدر الدین رحمانی ناظم مدرسہ بستان خدیجہ نوری نگر مولانا شمس الضحی جابر عمری قاضی مفتی محمد ارشد رحمانی استاذ ادارہ تحفیظ القرآن بسم اللہ کالونی ہاشم آباد۔مولانا شفیع احمد قاسمی کے علاوہ عوام الناس کی قابل لحاظ تعداد موجود تھی۔



