اسپشل اسٹوری

اسلام قبول کرنے پر والد نے دو بیٹیوں کو ایک سال قید رکھا – ہائی کورٹ نے کہا: مذہب کا فیصلہ بالغوں کا حق، دونوں بہنیں آزاد ؛ 25لاکھ روپے معاوضہ کا حکم

Representative image 

لکھنو: اترپردیش کی الہ آباد ہائی کورٹ نے مذہب تبدیل کرنے والی دو سگی بہنوں کو ان کے والد کی جانب سے مبینہ طور پر قید رکھنے کو شخصی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ آئین والدین کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ صرف اس وجہ سے اپنے بالغ بچوں کو قید کر دیں کہ وہ ان کے مذہبی عقائد سے متفق نہیں ہیں۔

 

ہائی کورٹ نے آگرہ کی دونوں بہنوں کو رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں اپنی پسند کی جگہ اور اپنی پسند کے شخص کے ساتھ رہنے کی آزادی دے دی۔ الزام تھا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد ان کے والد نے انہیں تقریباً ایک سال تک گھر میں مبینہ طور پر قید رکھا تھا۔

 

عدالت نے کہا کہ ہر بالغ شخص کو اپنی آستھا، مذہب، رہائش اور زندگی سے متعلق فیصلے خود کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ والدین اپنی اولاد کے فیصلوں سے اختلاف کر سکتے ہیں، لیکن انہیں اس کی آزادی چھیننے کا حق نہیں ہے۔ عدالت نے والد اور ریاستی حکومت کو دونوں بہنوں کو مجموعی طور پر 25 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔

 

بتایا گیا ہے کہ دونوں بہنوں نے گزشتہ سال گھر سے فرار ہونے سے قبل 2020 اور 2021 میں اسلام قبول کیا تھا۔ یہ فیصلہ جسٹس سندیپ جین کی یک رکنی بنچ نے حبسِ بے جا کی عرضی پر سنایا۔

 

آگرہ پولیس نے گزشتہ سال کولکاتا سے 35 اور 20 سالہ دونوں بہنوں کا پتہ لگایا تھا۔ پولیس نے اغوا اور جبری شادی کے الزامات میں دوسرے برادری سے تعلق رکھنے والے کم از کم ایک درجن افراد کو گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد ان کے والد نے جبری شادی کے لیے اغوا کا الزام لگاتے ہوئے پولیس میں مقدمہ درج کرایا۔

 

آگرہ پولیس کی جانب سے دونوں بہنوں کو کولکاتا سے واپس لانے کے بعد گرفتار مسلم ملزمین پر ’’ملک کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو جان بوجھ کر خطرے میں ڈالنے‘‘ اور ’’منظم گروہ کا حصہ ہونے‘‘ جیسے سخت الزامات عائد کیے گئے۔ اس کے علاوہ اترپردیش کے غیر قانونی مذہبی تبدیلی کی ممانعت سے متعلق قانون کی دفعات بھی نافذ کی گئیں۔

 

بہنوں کے وکیل علی بن سیف نے بتایا کہ ملزمین اس وقت سے جیل میں ہیں، جبکہ پولیس نے دونوں خواتین کو ان کے والد کے حوالے کر دیا تھا۔

 

دونوں بہنوں نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اسلام قبول کرنے کی وجہ سے انہیں قید اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ جسٹس سندیپ جین کی یک رکنی بنچ نے 6 اگست کو جاری حکم میں کہا کہ آئین والدین کو صرف اس وجہ سے اپنے بالغ بچوں کو قید کرنے کا اختیار نہیں دیتا کہ وہ ان کے مذہب، عقیدے یا ذاتی پسند سے اختلاف کرتے ہیں۔ آئینی حقوق کو والدین کے اختیار، سماجی اخلاقیات یا اکثریتی جذبات کے نام پر دبایا نہیں جا سکتا۔

 

جسٹس جین نے کہا کہ کسی بالغ شخص کی آزادی کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی قسم کی طاقت یا دباؤ کے ذریعے اس آزادی کو دبانے کی کوشش عدالت کی آئینی جانچ کے دائرے میں آتی ہے اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر مالی معاوضے سمیت مناسب قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

 

دونوں بہنوں نے جج کے سامنے کہا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مکمل ہوش و حواس میں مذہب تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور ان کے فیصلے کے پیچھے کسی قسم کا لالچ، اثر، دباؤ، ناجائز دباؤ یا بیرونی ترغیب نہیں تھی۔

 

بہنوں نے الزام لگایا کہ ان کے والد نے انہیں زبردستی آبائی گھر میں قید رکھا، جسمانی طور پر پابند کیا، دھمکیاں دیں اور مسلسل ذہنی اذیت دی۔ ان کے مطابق والد ایسا اس لیے کر رہے تھے تاکہ وہ اسلام ترک کرکے دوبارہ ہندو مذہب اختیار کر لیں۔

 

دونوں بہنوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کے پاسپورٹ، تعلیمی اسناد، شناختی کارڈ، بینک پاس بکس، چیک بکس، مذہب تبدیل کرنے سے متعلق دستاویزات اور دیگر ذاتی سامان ان کے والد نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ بڑی بہن نے ایم ایس سی، ایم فل اور بی ایڈ کیا ہے، جبکہ چھوٹی بہن نے بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔

 

دونوں بہنوں کے وکیل علی بن سیف نے ’دی انڈین ایکسپریس‘ کو بتایا کہ ان کے والد کو 2021 میں دونوں کے اسلام قبول کرنے کا علم ہوا تھا، جس کے بعد انہوں نے دونوں کو زبردستی گھر میں قید کر لیا اور وہ گزشتہ سال وہاں سے فرار ہونے تک قید رہیں۔

 

ریاستی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ مبینہ مذہبی تبدیلی ’’ایک بڑی اور منظم سازش کا حصہ تھی، جس کے ملک کی خودمختاری، سالمیت اور اتحاد پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔‘‘

 

تفتیش کاروں نے دعویٰ کیا کہ انہیں ایسے شواہد ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض افراد ’’غیر قانونی مذہبی تبدیلی کے ذریعے ملک کے سماجی تانے بانے کو متاثر کرنے کے مقصد سے ایک منظم منصوبے‘‘ کے تحت کام کر رہے تھے۔ تفتیش کاروں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہیں ایسے شواہد ملے ہیں جو مبینہ مذہبی تبدیلی کے عمل میں غیر ملکی عناصر اور بیرونی اثرات کی شمولیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

 

عرضی گزاروں کے وکیل نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذہب کی تبدیلی کے ملک کی خودمختاری، سالمیت اور اتحاد پر مبینہ اثرات کا خدشہ مکمل طور پر فرضی ہے اور ’’کسی ٹھوس ثبوت پر مبنی نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دو بالغ خواتین کا مذہب تبدیل کرنا ملک کی خودمختاری یا سالمیت کے لیے خطرہ کیسے بن سکتا ہے؟

 

دلائل سننے کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ اسے ریاستی حکومت کی اس بنیادی دلیل کو قبول کرنا مشکل ہے کہ خواتین کا ہندو مذہب سے اسلام میں مبینہ طور پر تبدیلی ایک ایسی بڑی سازش کا حصہ ہے جس میں ’’ملک کی خودمختاری، سالمیت اور اتحاد کو خطرے میں ڈالنے‘‘ کی صلاحیت ہو۔

 

عدالت نے دونوں خواتین کے بیانات کو ’’فطری، مربوط اور واضح‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے یہ ظاہر ہو کہ ان میں سے کوئی بھی دباؤ، خوف، لالچ یا ناجائز اثر و رسوخ کے تحت کام کر رہی تھی۔

 

بنچ نے کہا کہ اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے والی دو بالغ خواتین کو زبردستی قید کرنا ان کے والد کی جانب سے قانون کی حکمرانی کی کھلی توہین اور آئین کے آرٹیکل 21 اور 25 کے تحت حاصل ناقابل تنسیخ بنیادی حقوق کی سنگین، دانستہ اور مسلسل خلاف ورزی ہے۔

 

عدالت نے ریاستی حکومت اور اس کے اداروں کے کردار پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ریاست ہر شہری کی زندگی اور آزادی کی محافظ ہے، لیکن خواتین کو غیر قانونی حراست سے آزاد کرانے کے بجائے درج مقدمے کی آڑ میں اس غیر قانونی حراست کو جاری رہنے دیا گیا۔

 

عدالت نے کہا کہ ریکارڈ سے واضح ہوتا ہے کہ ریاستی مشینری اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی۔ ایسی انتظامی بے عملی اور آئینی بے حسی کو عدالتی منظوری نہیں دی جا سکتی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر ریاست بھی عوامی قانون کے تحت جواب دہ ہے۔

 

ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ریاست کی ’’ملی بھگت اور سازش‘‘ سے والد کی جانب سے خواتین کو حراست میں رکھنا مکمل طور پر غیر قانونی تھا۔ عدالت نے دونوں خواتین کی آزادی بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت دی کہ معاملے کی تفتیش قانون کے مطابق سختی سے جاری رکھی جائے اور موجودہ کارروائی کے دوران عدالت کی جانب سے کی گئی کسی بھی آبزرویشن سے تفتیش متاثر نہ ہو۔

 

بنچ نے ریاستی حکومت کو یہ اجازت بھی دی کہ معاوضے کی 50 فیصد رقم والد سے اور باقی 50 فیصد اس سرکاری ملازم سے وصول کی جا سکتی ہے جس کے عمل یا غفلت کے باعث خواتین کی آزادی متاثر ہوئی۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button