3 سالہ بچی کا ریپ کے بعد قتل 65 سالہ مجرم کو سزائے موت۔ مہاراشٹرا کی عدالت کا فیصلہ

ممبئی: مہاراشٹرا کے ضلع پونے میں پیش آنے والے ایک افسوسناک اور سنگین واقعے میں خصوصی عدالت نے ریکارڈ وقت میں فیصلہ سناتے ہوئے 65 سالہ ملزم کو سزائے موت سنائی ہے۔یہ واقعہ 1 مئی 2026 کو ضلع پونے کے گاؤں
نصراپور میں پیش آیا۔ ایک تین سالہ بچی اپنی نانی کے گھر موجود تھی جب ملزم اسے بہلا پھسلا کر قریبی مویشیوں کے شیڈ میں لے گیا جہاں اس نے لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد سر پر وزنی پتھر ڈال کر اس کا قتل کردیا۔
بعد ازاں بچی کی نعش وہیں سے برآمد ہوئی جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔تحقیقات میں سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی بنیاد پر ملزم کو بچی کے ساتھ آخری بار دیکھا گیا۔
عدالت نے ان شواہد سے اتفاق کرتے ہوئے اسے مجرم قرار دیا۔پولیس نے مقدمے کی تفتیش تیزی سے مکمل کرتے ہوئے 16 دن کے اندر 1200 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں پیش کی۔ عدالت نے 60 دن کے اندر سماعت مکمل کرتے
ہوئے فیصلہ سنایا۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ملزم پہلے بھی مجرمانہ مقدمات میں ملوث رہا ہے اور جیل سے رہائی کے بعد اس کے رویے میں کوئی تبدیلی یا ندامت ظاہر نہیں ہوئی اس لیے وہ معاشرے کے لیے خطرہ ہے۔
اس فیصلے پر سیاسی حلقوں میں بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار گروپ) کی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندان کو آخرکار انصاف مل گیا ہے ۔



