تلنگانہ

ایڈوکیٹ خواجہ معیز الدین قتل کیس کی خصوصی ٹیم کے ذریعہ تحقیقات کا مطالبہ۔چیف منسٹر کو یادداشت داشت، تلنگانہ بار کونسل کے ارکان کے بشمول50 وکلاء کی پریس کانفرنس

حیدرآباد، یکم /جولائی: تلنگانہ ہائی کورٹ کے ممتاز وکلاء، جن میں تلنگانہ بار کونسل کے اراکین اور نامزد سینئر ایڈوکیٹس شامل تھے، نے آج تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ جناب اے ریونت ریڈی سے ایڈوکیٹ خواجہ معیز الدین کے قتل کیس کی تحقیقات کو فوری طور پر تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔

 

میڈیا پلس آڈیٹوریم میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وکلاء نے مطالبہ کیا کہ قتل کیس کی تیز رفتار اور مؤثر تحقیقات کے لیے فوری طور پر ایک خصوصی تحقیقاتی افسر مقرر کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ضمانت کی درخواستوں، دیگر متفرق مقدمات اور ٹرائل کی کارروائی کے لیے ایک خصوصی پبلک پراسیکیوٹر کا فوری تقرر عمل میں لایا جائے، جبکہ مقتول کے فرزند کی جانب سے پہلے ہی داخل کی گئی درخواستوں پر بھی جلد کارروائی کی جائے۔

 

پریس کانفرنس سے مقتول کے فرزند ثناء اللہ فرحان، سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ مرزا نثار بیگ، وی۔ راگھوناتھ، پشم سجاتھا اور اے۔ وشنو وردھن ریڈی نے خطاب کیا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس مقدمہ کے مزید تین مفرور ملزمان، عابد، منیر اور چاؤش، کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔وکلاء نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ محبوب عالم خان کے زیر انتظام تمام اوقافی جائیدادوں، خصوصاً انوارالعلوم کالج، ممتاز کالج اور مدرسہ عزیزہ سمیت دیگر اوقافی املاک میں مبینہ بے ضابطگیوں، اوقافی فنڈز کے غلط استعمال اور غیر قانونی قبضوں کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں۔

 

انہوں نے تجویز پیش کی کہ یہ تحقیقات کسی ریٹائرڈ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج کی نگرانی میں کرائی جائیں۔وکلاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اوقافی املاک کو مبینہ طور پر قبضہ مافیا سے محفوظ بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اوقاف کی لاکھوں روپے کی آمدنی کے مبینہ غلط استعمال کے نتیجے میں ایڈوکیٹ خواجہ معیز الدین کے قتل جیسے سنگین جرم کو انجام دیا گیا

 

لہٰذا اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button