جنرل نیوز

فلسطین کے سسکتے بلکتے دم توڑتے ہوئے بچوں اور مظلوم عوام کی انسانی بنیادوں پر امداد کے لئے ڈاکٹرس آف رحمن اور سفارتخانہ فلسطین میں باہمی تعاون

عزت مآب عبداللہ محمد ابو شاوش سفیر فلسطین سے وفد کی ملاقات۔ ڈاکٹر یوسف الدین شیخ کی پریس کانفرنس 

حیدرآباد۔7/جولائی:فلسطین کے سفیر عزت مآب عبداللہ محمد ابو شاوش اور ڈاکٹرس آف رحمن۔مڈلینڈ انٹرنیشنل ایڈ ٹرسٹ (DOR-MIAT) کے وفدنے ڈاکٹر یوسف الدین شیخ (لندن )کی قیادت میں فلسطین کے سفیر عزت مآب عبداللہ محمد ابو شاوش سے نئی دہلی میں سفارت خانہ فلسطین میں 6 جولائی کو ملاقات کی اور ڈاکٹرز آف رحمن اور فلسطین کے درمیان انسانی ہمدردی اور طبی تعاون سے متعلق تبادلہ خیال کیا ۔

 

اس وفد میںڈاکٹر عماد، سرجیکل آنکولوجسٹ،ڈاکٹر عابد حسین۔ آرتھوپیڈک سرجن، ڈاکٹر مبشر، میڈیکل اسپیشلسٹ، جناب عادل خان، منیجنگ پارٹنر، اے این انٹرنیشنل (کسٹمز، کارگو کلیئرنگ و فارورڈنگ)،ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز، چیف ایڈیٹرگواہ اردو ویکلی،حیدرآباد،جناب علی خان، لاجسٹکس پارٹنر، اے این انٹرنیشنل شامل تھے۔سفیر عبداللہ محمد ابو شاوش نے ڈاکٹر یوسف الدین شیخ اور ان کے ہمراہ آئے ہوئے وفد کا خیرمقدم کیا اور فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انسانی خدمت کے جذبے کو سراہا۔ڈاکٹر ز آف رحمن کے عہدیدار وں نے 7 جولائی کو میڈیا پلس آڈیٹوریم میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں فلسطینی سفیر سے ملاقات اور مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلق تفصیلات سے اخباری نمائندوں کو واقف کروایا۔

 

ڈاکٹر یوسف الدین شیخ نے بتایا کہ فلسطینی سفیر نے اس ملاقات کے دوران کہا کہ موجودہ دور کا یہ ایک نہایت سنگین انسانی بحران ہے اور سفارت خانہ غزہ، مغربی کنارے (ویسٹ بینک) اور لبنان و شام کے مہاجر کیمپوں میں مقیم تمام فلسطینیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔سفیر نے وفد کو 19 جون 2026 کو سفارت خانے کی جانب سے جاری کی گئی انسانی امداد کی اپیل سے آگاہ کیا، جس میں حکومت ہند اور ہندوستانی عوام سے فلسطینی شعبہ صحت کے لیے ادویات اور طبی آلات فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ہند، ہندوستانی کمپنیوں، اسپتالوں اور طبی ماہرین کی جانب سے اس اپیل کا مثبت جواب ملا ہے اور امدادی سامان کی ترسیل کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

 

انہوں نے غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی نظامِ صحت کی تباہ حالی، ادویات، طبی سامان اور آلات کی شدید قلت اور ہزاروں مریضوں کو فوری علاج کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ آخر میں انہوں نے ڈاکٹر یوسف الدین شیخ اور وفد کی انسان دوست کاوشوں پر شکریہ ادا کیا۔ڈاکٹر یوسف الدین شیخ نے اپنے وفد کا تعارف کراتے ہوئے ڈاکٹرز آف رحمن،مڈلینڈ انٹرنیشنل ایڈ ٹرسٹ (DOR-MIAT) کی سرگرمیوں کا تعارف پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ادارہ طبی امداد، ہنگامی خدمات اور کمزور طبقات کی مدد کے لیے وسیع نیٹ ورک کے ساتھ خدمات انجام دے رہا ہے۔انہوں نے 2024 میں غزہ کے اپنے انسانی مشن کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے انتہائی دشوار حالات میں ادویات اور طبی آلات کی شدید قلت کے باوجود متعدد جراحی آپریشن انجام دیے۔

 

ان کے مطابق اسی تجربے نے ادارے کو فلسطینی شعبہ صحت کی مدد کے لیے ایک جامع انسانی امدادی پروگرام شروع کرنے کی ترغیب دی۔ڈاکٹر یوسف نے سفیر کو بتایا کہ سفارت خانے کی جانب سے تیار کردہ مفاہمتی یادداشت (MoU) قانونی جانچ کے آخری مرحلے میں ہے اور توقع ہے کہ جلد اس پر دستخط ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے فوراً بعد انسانی طبی امداد کی پہلی کھیپ روانہ کی جائے گی، جس کے بعد دوسری کھیپ بھی بھیجی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ادارہ سفارت خانے کے ساتھ طویل مدتی انسانی شراکت داری قائم کرنے اور فلسطینی عوام کی مسلسل مدد کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے فلسطینی میڈیکل طلبہ کو حیدرآباد کے ممتاز اسپتالوں میں کلینیکل تربیت فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی تاکہ مستقبل کے فلسطینی ڈاکٹروں کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو سکے۔

 

سفیر نے اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ حالات کے باعث غزہ کے طلبہ شرکت نہ کر سکیں تو عارضی طور پر مغربی کنارے کے اہل طلبہ کو اس سہولت سے مستفید کیا جا سکتا ہے۔سفیر نے مزید تجویز دی کہ DOR-MIAT عالمی اداروں، جن میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO)، میڈیسنز سان فرنٹیئرز (MSF)، سیو دی چلڈرن اور ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) شامل ہیں، کے ساتھ ساتھ فلسطین میں ادویات فراہم کرنے والی کمپنیوں سے بھی رابطہ قائم کرے تاکہ فلسطینی وزارتِ صحت کی ضروریات کے مطابق فوری طور پر مطلوبہ ادویات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ فلسطینی وزارتِ صحت سے میڈیکل طلبہ کی نامزدگی کے لیے سفارت خانہ رابطہ کرے گا، جبکہ DOR-MIAT تربیتی پروگرام سے متعلق ایک تفصیلی تصوراتی خاکہ فراہم کرے گا۔ اجلاس میں خریداری، لاجسٹکس اور امدادی سامان کی ترسیل کے مختلف پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا گیا اور فلسطینی شعبہ صحت کی معاونت کے لیے طویل المدتی شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔سفارت خانہ اور DOR-MIAT کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MoU) کو حتمی شکل دے کر اس پر دستخط کیے جائیں گے۔

 

انسانی طبی امداد کی پہلی کھیپ کی ترسیل کا شیڈول طے کیا جائے گا، جس کے بعد مزید امدادی کھیپیں بھی بھیجی جائیں گی۔امدادی سامان کی لاجسٹکس اور نقل و حمل کے حوالے سے مسلسل رابطہ برقرار رکھا جائے گا۔سفارت خانہ فلسطینی وزارتِ صحت سے میڈیکل طلبہ کی نامزدگی کے لیے باضابطہ رابطہ کرے گا۔DOR-MIAT حیدرآباد میں مجوزہ کلینیکل تربیتی پروگرام کا تفصیلی تصوراتی خاکہ فراہم کرے گا۔دونوں فریق پائیدار اور طویل المدتی انسانی و طبی تعاون کو وسعت دینے کے لیے باقاعدہ مشاورت جاری رکھیں گے۔ایک رابطہ نظام قائم کیا گیا جس کے تحت ہندوستان میں ڈاکٹر عماد، نئی دہلی میں فلسطینی سفارت خانے کی جانب سے ڈاکٹر ایمن محب الدین، جبکہ اردن میں رابطہ کار کا تقرر یا تو فلسطینی سفارت خانے یا فلسطینی نیشنل فنڈ (PNF) کے نمائندے کے ذریعے کیا جائے گا تاکہ انسانی طبی امداد کی مؤثر ترسیل اور باہمی رابطے کو یقینی بنایا جا سکے۔

 

فلسطینی سفیر نے ڈاکٹر یوسف الدین شیخ اور ان کے وفد کا فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انسانی خدمات کے جذبے پر شکریہ ادا کیا۔ دونوں فریقوں نے انسانی اور طبی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، فوری طبی امداد کی فراہمی، فلسطینی طبی تعلیم کی معاونت اور فلسطینی نظامِ صحت کو مستحکم بنانے کے لیے پائیدار شراکت داری قائم رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ برطانیہ میں مقیم ڈاکٹر یوسف الدین شیخ 2024 میں برطانیہ سے غزہ جاکر طبی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹرس آف رحمن نے امریکہ اور کناڈا جیسے ممالک سے بھی ڈاکٹروں کی ٹیم تیار کر کے غزہ میں ان کی تعیناتی کی لیکن سب سے بڑا مسئلہ ضروری اور جان بچانے والی دواؤں کی قلت کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں صورتحال کافی خراب ہے۔ معصوم بچے اب بھی نقص تغذیہ سے مرر ہے کے ہیں۔ ان کی ماؤں کو دودھ نہیں ہورہا ہے کیونکہ ان میں بھی ہوئی۔ غذائیت کی کمی ہے۔ اس کے علاوہ کینسر کے علاج کی نے نہ دوائیں تک دستیاب نہیں۔ انہوں نے اسرائیل کے مظالم کا نشانہ ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن میں استعمال ہونے والے کے سیزر تک کی اجازت نہیں کیونکہ اسرائیل دعوی کرتا ہے کہ اس سے ہتھیار بنائے جاسکتے ہیں۔ غزہ میں ایکسرے مشین ہی گرچہ ٹی اسکین اور ایم آر آئی جیسی مشینیں بھی محدود، یا نہ کے برابر پروا ہیں۔

 

جب یہ مشینیں خراب ہو جاتی ہیں تو اسرائیل اس کے پرزے منگوانے کی اجازت نہیں دیتا۔ڈاکٹر یوسف نے کہا کہ کینسر جیسے امراض سے لوگوں کے جسم گل رہے ہیں لیکن ان تک دوائی یا علاج کی رسائی نہیں۔ شدید زخمی بچوں کو باہر کے ممالک میں علاج کیلئے نکالنے میں بھی ڈیڑھ سال کا وقت لگ جاتا ہے۔ڈاکٹرس آف رحمن کے وفد نے بعد ازاں سفارت خانہ سوڈان میں سفیر علی عبد اللہ الیٹوم سے بھی ملاقات کی۔ اس پریس کانفرنس میں ڈاکٹر افتخار الدین سکریٹری میسکوبھی موجود تھے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button