جنرل نیوز

حقیقی مومن کی صفات ایمان کی روح ہیں، محض دعویٰٔ ایمان کافی نہیں: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری،۔

حقیقی مومن کی صفات ایمان کی روح ہیں، محض دعویٰٔ ایمان کافی نہیں: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری،۔

حیدرآباد، 11 جولائی (پریس ریلیز):

خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز، نامپلی، حیدرآباد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے آج نمازِ جمعہ سے قبل اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام صرف چند عبادات یا محدود نیک اعمال کا نام نہیں، بلکہ عقیدہ، عبادت، اخلاق، معاملات اور بندگانِ خدا کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مکمل اطاعت کا جامع نظامِ حیات ہے۔ ایک مسلمان اس وقت حقیقی معنوں میں کامل مومن بنتا ہے جب اس کی پوری زندگی قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھل جائے۔

انہوں نے سورۂ انفال کی آیات ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ…﴾ کی تلاوت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان مختصر آیات میں مومنِ کامل کی جامع تصویر پیش فرما دی ہے۔ قرآن کریم واضح کرتا ہے کہ ایمان صرف زبانی دعوے کا نام نہیں بلکہ اس کی حقیقی پہچان یہ ہے کہ اللہ کا ذکر دلوں میں خشیت پیدا کرے، قرآن کی آیات ایمان میں اضافہ کریں، بندہ ہر حال میں اپنے رب پر کامل توکل رکھے، نماز کو اس کے حقوق کے ساتھ قائم کرے اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے اس کی راہ میں خرچ کرے۔

مولانا نے کہا کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف خدمتِ خلق، یا صرف صدقہ و خیرات، یا صرف نماز کی پابندی ہی کامل مسلمان ہونے کے لیے کافی ہے، حالانکہ یہ تمام اعمال یقیناً عظیم نیکیاں ہیں، لیکن کامل ایمان ان تمام خوبیوں کے ساتھ صحیح عقیدہ، حسنِ اخلاق، تقویٰ، اخلاص، امانت، دیانت اور اللہ و رسول ﷺ کی کامل اطاعت کا تقاضا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قرآنِ کریم ایمان کو تازگی عطا کرنے والی کتاب ہے۔ جب مومن تدبر اور خشوع کے ساتھ قرآن سنتا اور اس پر عمل کرتا ہے تو اس کے ایمان میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ آج بہت سے گھروں میں قرآن موجود ہے، لیکن اس کا پیغام اور تعلیمات ہماری عملی زندگی میں نمایاں نہیں ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قرآن کو صرف تلاوت تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کے ترجمہ، مفہوم اور عملی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ موجودہ دور میں بعض عناصر دین کی ہر نیکی اور ہر سنت کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کو ان کی دینی شناخت سے دور کیا جا سکے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ قرآن و سنت اور امت کے اجماعی راستے کو مضبوطی سے تھامے رکھے اور بے بنیاد اعتراضات اور گمراہ کن افکار سے اپنے ایمان کی حفاظت کرے۔

انہوں نے توکل کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ توکل کا مطلب اسباب کو چھوڑ دینا نہیں بلکہ تمام جائز اسباب اختیار کرنے کے بعد نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دینا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی اس کی روشن مثال ہے کہ جب انہیں آگ میں ڈالا گیا تو انہوں نے صرف اللہ پر بھروسہ کیا، اور اللہ تعالیٰ نے آگ کو ان کے لیے سلامتی کا ذریعہ بنا دیا۔

نماز کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرآن نے "يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ” فرمایا ہے، یعنی نماز کو صرف پڑھنا نہیں بلکہ اس کی روح، آداب، خشوع و خضوع اور پابندی کے ساتھ قائم کرنا مطلوب ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا "وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ”، یعنی اللہ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے اس کی راہ میں خرچ کرنا مومن کی نمایاں صفت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اخلاص کے ساتھ ایک کھجور بھی اللہ کی راہ میں صدقہ کرے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرما کر اس کے اجر کو اس قدر بڑھا دیتے ہیں کہ وہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلمان کا حسن اس کے لباس، مال و دولت، عہدے یا ظاہری شان و شوکت میں نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق، عاجزی، دیانت، تقویٰ، حسنِ سلوک اور نیک اعمال میں ہے۔ جو انسان دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، اپنے اخلاق سے دل جیتتا ہے اور اپنی ذات کو معاشرے کے لیے نفع بخش بنا دیتا ہے، وہی اللہ کے نزدیک بھی محبوب اور لوگوں کی نگاہ میں بھی معزز ہوتا ہے۔

مولانا نے حضرت عبداللہ بن مبارکؒ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ایمان افروز واقعات بیان کرتے ہوئے اخلاص، خدمتِ خلق اور ایثار کی عملی تعلیمات کو اجاگر کیا اور کہا کہ مومن کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنی عبادت کے ساتھ بندگانِ خدا کی خدمت کو بھی عبادت سمجھتا ہے۔

آخر میں انہوں نے مسلمانوں کو نصیحت کی کہ وہ اپنی کوتاہیوں کا محاسبہ کریں، برے ماحول اور گمراہ کن صحبت سے بچیں، نیک لوگوں کی رفاقت اختیار کریں، قرآن و سنت سے مضبوط تعلق قائم کریں اور اپنی زندگی کو ایمان، اخلاص، تقویٰ، حسنِ اخلاق، خدمتِ خلق اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے سے آراستہ کریں۔

انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو حقیقی ایمان، قرآنِ کریم سے مضبوط تعلق، نماز کی پابندی، کامل توکل، حسنِ اخلاق، اخلاص، سخاوت اور اپنی رحمت پر ہمیشہ اچھا گمان رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button